13 اکتوبر 2012 - 20:30

افغانستان کے صدر حامد کرزئي نے ایک بیان میں پاکستان کے سیاسی اور مذہبی قائدین سے کہا ہےکہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں افغانستان کے ساتھ موثر تعاون اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔اس بیان میں آیا ہےکہ سوات میں ایک لڑکی پر قاتلانہ حملہ ڈیورینڈ لائن کے دونوں طرف آباد باشندوں کے لئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ اس بیان میں مزید آيا ہے کہ دشمن یہ چاہتا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے عوام بالخصوص سرحدی علاقے کے باشندے جہالت کے اندھیروں میں گم رہیں اور اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ان علاقوں میں موجود اسکولوں کوتباہ کیا جارہا ہے جو بلاشبہ ایک گہری سازش ہے۔

ابنا: پاکستان کے سیاسی اور مذہبی قائدین سے حامد کرزئي کی یہ اپیل اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ کہ وہ دہشتگردی اور انتھا پسندی کے خلاف اسلام آباد کی  غیر موثر پالیسیوں سے پریشان ہیں۔ حامد کرزئي کی طرف سے سوات کی ایک لڑکی پر طالبان کے قاتلانہ حملے کی طرف اشارے نے ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ کو پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے کی طرف مبذول کردیا ہے کیونکہ کابل کی نگاہ میں یہ علاقہ طالبان کا مرکز ہے۔ پاکستان کچھ عرصہ پہلے تو اس بات سے انکار کرتا تھا کہ اس کےعلاقے دہشتگردی کی بنیاد نہیں ہیں لیکن حال ہی میں حکومت پاکستان نے تسلیم کیا ہے کہ یہ علاقے انتھا پسندی میں اضافے کا باعث ہیں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے گذشتہ روز کراچی میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہےکہ پاکستان کے خفیہ اداروں  کی رپورٹوں کی روشنی میں حکومت پاکستان اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ قبائلی علاقہ شمالی وزیرستان دہشتگردوں کی تربیت کا مرکز بن چکا ہے۔ پاکستان کے وزیر داخلہ کےبیان کے فورا بعد افغان صدر کابیان دہشتگردی میں اضافے کے حوالے سے افغانستان کے مو‍ قف کی مضبوطی کی علامت ہے کیونکہ کابل حکومت اس سے پہلے بھی  کئي بار کہہ چکی ہے کہ پاکستان کے سرحدی علاقے انتھا  پسندی کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ حامد کرزئي کے اس بیان میں سیاسی حکام کے ساتھ ساتھ پاکستان کے مذہبی قائدین سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ دہشتگردی اور انتھا پسندی کے خلاف جنگ میں اپنے اثر ونفوذ کا استعمال کریں جو یقینا ایک نیا نکتہ ہے ۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ  پاکستان کی طرف سے قبائلی علاقوں میں دہشتگردوں کی موجودگي کا اعتراف حقیقت میں داخلی اور بیرونی دباؤ کا نتیجہ ہے اوریہ  اسلام آباد اور کابل کے درمیاں باہمی تعاون میں ممد و معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اسٹریٹجک معاہدے کی روشنی میں حامد کرزئی کا حالیہ بیان کابل اور اسلام آباد میں تعاون میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔اس امکان کا بھی اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی وزیر داخلہ کا حالیہ بیان اسٹریٹجک معاہدے کے حوالے سے حامد کرزئی کے مطالبات کا جواب ہے جس میں سب سے اہم طالبان کی حمایت کا خاتمہ اور ان کے خلاف مؤثر کاروائی کرنا ہے.

.....

/169