ابنا: يوٹيوب پر گستاخانہ تشہير کے بعد پورے عالم اسلام ميں غم و غصے کي شديد لہر ڈوڑ گئي تھي-مارک بيسلے يوسف جو نکولا بيسلے نکولا کے نام سے مشہور ہے سن دوہزار دس ميں بينک فراڈ ميں ملوث رہا ہے اور اب اس پر ضمانت پر رہائي کي شرائط کي خلاف ورزي کے جرم ميں مقدمہ چلايا جارہا ہے- توہين آميز فلم کے پروڈيوسر پر آٹھ الزامات ہيں جن دروغگوئي اور کم از کم تين مستعار ناموں کا استعمال شامل ہے-سرکاري وکيل نے اسے دو سال قيد کي سزا ديئے جانے کا مطالبہ کيا ہے- قابل ذکر بات يہ ہے کہ بيسلے کے خلاف مقدمہ دنيا کے ڈيڑہ ارب سے زيادہ مسلمانوں کي قابل احترام ہستيوں کي توہين کے جرم ميں نہيں بلکہ مالي بدعنوانيوں اور بينک فراڈ کے تحت چلايا جارہا ہے-حالانکہ توہين آميز امريکي فلم اور فرانس کے جريدے ميں توہين آميز خاکوں کي اشاعت کے خلاف پوري دنيا ميں امريکہ اور مغرب مخالف جذبات ميں زبردست اضافہ ہوا ہے- کئي ہفت سے پوري دنيا کے مسلمان پيغمبر اسلام ص کي شان ميں توہين آميز فلم بنانے والوں کے خلاف بڑے پيمانے پر مظاہرے کرکے اپنے غم و غصے کا اطہار کررہے ہيں –اس پس منظر ميں ايسا محسوس ہوتا ہے کہ امريکي حکمراں ٹولہ اور مغربي حکام ساري دنيا کے مسلمانوں کے جذبات اور ان کے مقدسات کو اہميت دينے کے لئے تيار نہيں ہيں-امريکي صدر باراک اوباما نے اس سال اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي سے خطاب کرتے ہوئے دعوي کيا تھا کہ اس توہين آميز فلم کو انٹر نيٹ سے ہٹايا جانا امريکي آئين کي خلاف ورزي ہے جس ميں آزادي بيان کي ضمانت دي گئي ہے-امريکي صدر جس وقت يہ تقرير کر رہے تھے ساري دنيا ميں مسلمانوں کے مختلف طبقات توہين آميزفلم کے خلاف مظاہرے کرر ہے تھے –اوباما نے توہين آميز امريکي فلم کے خلاف مسلمانوں کے احتجاجي مظاہروں کو قابل مذمت قرار ديا تھا-امريکي اور مغربي حکام کے قول و فعل دونوں سے بخوبي واضح ہوجاتا ہے کہ وہ نہ صرف اسلام مخالف اقدامات کے خلاف کوئي ٹھوس لائحہ عمل اپنانے سے قاصر ہيں بلکہ اسلام کي توہين کرنے والے گروہوں اور افراد کي مسلسل پشت پناہي کررہے ہيں-بہرحال امريکہ اور ساري دنيا کے مسلمان اس توہين آميز امريکي فلم کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاري رکھے ہوئے ہيں اور امريکن مسلم کانگريس نے پہلي بار پيغمبر اسلام ص کي شان ميں بنائي جانے والي توہين آميز فلم کے خلاف شديد ردعمل کا اظہار کيا ہے-امريکن مسلم کانگريس کے ارکان نے لاس اينجلس ميں مذکورہ فلم کے خلاف مظاہرے کئے ہيں اور جبکہ سيکڑوں کي تعداد ميں امريکي مسلمانون نے وائٹ ہاوس کے سامنے دھرنا ديکر توہين رسالت کے مرتکب افراد پر مقدمہ چلائے جانے کا مطالبہ کيا ہے-
.....
/169