10 اکتوبر 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے کہا ہے کہ اہل عالم کو انسانی حقوق ، حریت پسندی اور دہشتگردی سے مقابلے جیسی اقدار کے تعلق سے مغربی ملکوں کے دوہرے رویوں سے آشنا کیا جانا چاہیے ۔

ابنا: مہمان پرست نے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں یوریشیا میڈیا کانفرنس کی افتتاحیہ تقریب سے خطاب میں کہا کہ آج مشرق وسطی اور پوری دنیا حساس حالات سے دوچار ہے اور دنیا میں جاری سیاسی ، اقتصادی اور سماجی بحرانوں کے نہایت وسیع پیمانے پر اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف سے مغرب نہایت سنگين اقتصادی وسماجی مسائل سے دوچار ہے تو دوسری طرف سے اسلامی بیداری نے، مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں حکومتی سطح پر بنیادی تبدیلیاں پیدا کی ہیں ۔ مہمان پرست نے کہا کہ سامراجی حکومتیں اسلامو فوبیا، ایرانوفوبیا ، مشرق وسطی کے ملکوں کےدرمیاں اختلافات ڈالنے، علاقائي تعاون اور اتحاد کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے اور انتھا پسند و دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں کے لئے زمینہ فراہم کرنے جیسے منصوبوں پر کام کررہی ہیں اور ان منصوبوں سے ان کے سیاسی اہداف واضح ہیں ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سامراجی طاقتیں اپنے اہداف تک پہنچنے کے لئے اپنے ذرا‏ئع ابلاغ کے سہارے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی ہیں اور اہل عالم کو وہی کچھ بتاتی ہیں جو ان کے مفادات میں ہوتا ہے اور ان چیزوں کو حقائق کا رنگ دے کر اہل عالم کے سامنے پیش کرتی ہیں ۔ رامین مہمان پرست نے کہا کہ ان حالات کے پیش نظر خود مختار ملکوں پر سنگين ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرکے ساری دنیا میں امن و استحکام، اور ترقی لانے کی کوشش کرنی چاہیے اور جنگ و خونریزی کا سدباب کرکے اپنا کردار نبھانا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران تمام ملکوں میں امن و امان اور ترقی دیکھنا چاہتا ہے اور یہ ہدف تمام ملکوں کی مشارکت سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔

.....

/169