ابنا: پاکستان میں شدت پسندی کا ایک جلوہ ایک ایسے گروپ کی تشکیل ہے کہ جسے اصطلاح میں پاکستانی طالبان یا تحریک طالبان پاکستان کا نام دیا جاتا ہے۔ افغانستان کے طالبان کی طرح پاکستانی طالبان بھی زیادہ تر پشتو زبان ہیں کہ جو افغانستان کی سرحد کے قریب پاکستان کے شمال مغربی علاقوں میں آباد ہیں۔ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں سے طالبان کی تیرہ جماعتیں تحریک طالبان پاکستان کے ایک نام پر اپنی سر گرمیاں انجام دے رہے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ پاکستانی طالبان کی تشکیل اور فروغ میں کون سے اسباب اور عناصر کار فرما ہیں؟ اس کے جواب میں یہ کہنا چاہیے کہ مختلف ملکی علاقائی اور بین الاقوامی اسباب اس گروپ کی تشکیل میں موثر ہیں لیکن اس تحریر میں اس گروپ کی تشکیل میں سعودی عرب کے بنیادی کردار کی وضاحت کی گئی ہے۔ سعودی عرب نے افغانستان کے جہاد کے دوران و ہابیت کی ترویج کے لیے بہت زیادہ سرگرمیاں انجام دی ہیں اور اسی وجہ سے پاکستان میں بھی اس گروپ نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ سعودی عرب نے اپنے تیل کی آمدن کے ذریعے افغانستان میں مالی اور معاشی امداد ارسال کرنے اور پاکستان میں وہابی تفکر کے حامل ہزاروں دینی مدرسوں کی تاسیس کر کے اس نظریے کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سعودی عرب روس کی کامیابی پر تشویش کے علاوہ پاکستان میں اسلام پسندوں کی حمایت کے ذریعے عالم اسلام کے لیڈر کے عنوان سے اپنا تعارف کر وانے کی کوشش میں تھا۔یہ دور ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ہمراہ تھا لہذا یہ مذکورہ دعوی ایک حد تک خطرے سے دو چار ہو گیا اور آل سعود بھی یہ خیال کرتا تھا۔ اسی طرح شیعہ گروپوں اور شیعہ نشین علاقوں کی ایرانی حمایت کی وجہ سے سعودی عرب نے افغانستان کی تبدیلیوں کے مطابق اس ملک کے مقابلے میں ایک خاص قسم کی مذہبی اور آئیڈیا لوجک سیاست کا آغاز کیا۔سعودی وہابیوں نےستمبر۱۹۸۹ء میں بلوچستان کے افغان مہاجروں کی تعلیمی اور انسانی امداد کا بہانہ بنا کر اس صوبے میں متعدد مرا کزتاسیس کیے اور مالی امداد کے ذریعے اپنی شیعہ مخالف سیاست کی تبلیغ کا آغاز کیا اور کتابوں کی تقسیم مذہبی پروگراموں کے انعقاد فلم و کیسٹوں کو تقسیم کر کے انہیں وہابیت کی تعلیم دی۔ لہذا اس طریقے سے پاکستان میں محمدبن عبدالوہاب کے افکار اور نظریات کی ترویج کی گئی.
.......
/169