4 اکتوبر 2012 - 20:30

تہران کی مرکزی نماز جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی کی امامت میں ادا کی گئي۔

ابنا: خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے ایم کے او گروہ کو دہشتگردوں کی فہرست سے خارج کرنے کے اقدام کی مذمت کی۔خطیب جمعہ تہران نے دہشتگرد گروہ ایم کے او کے ہاتھوں سولہ ہزار ایرانی شہروں کی شہادت اور اس گروہ کی دہشتگردانہ کاروائيوں کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ اس دہشتگرد گروہ کے عناصر نے بعض اوقات امریکہ کی براہ راست ھدایت پر اسلامی جمہوریہ ایران کی اہم شخصیتوں کو نشانہ بناکر شہید کیا ہے۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ امریکہ بھر پور طرح سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صف آرا ہے لیکن ایران بھی پوری طاقت کےساتھ تسلط پسند عالمی نظام کے خلاف ڈٹا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں اسلامی انقلاب سے مقابلہ کرنے کی غرض سے خاص سل کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت امریکہ سے کسی طرح کے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ واضح رہے امریکہ کی وزارت خارجہ نے اٹھائيس ستمبر کو ایم کے او کو دہشتگرد گروہوں کی فہرست سے نکالنے کا اعلان کیا تھا۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہاکہ جن ملکوں نے ایران پر پابندیاں لگارکھی ہیں وہ خود بحرانی حالات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سامراج نے اقتصادی لحاظ سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بھرپور جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ دشمن کو ایران کے خلاف صدام کی  آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ میں بھی کوئي کامیابی حاصل نہیں ہوئي تھی اور وہ اپنے مذموم اھداف حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا اور آج بھی ناکام رہے گا۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہاکہ پابندیوں کے باوجود ایران کے داخلی حالات بہتر ہیں اور گذشتہ تینتیس برسوں سے جس طرح کچھ مسائل تھے آج بھی پابندیوں کے تحت بعض مشکلات پائي جاتی ہیں۔

.......

/169