ابنا: ترکی کیطرف سے طارق ہاشمی کو پناہ دینے اور اب شہریت دینے کے اعلان سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس وقت ترکی اور عراق کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیا ہو سکتی ہے اور ان اقدامات کے مستقبل کے تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔حکومت عراق نے ان اقدامات کے بعد اپنی پارلیمینٹ سے کہا ہے کہ وہ فوجی اڈوں کے حوالے سے ترکی کے ساتھ تمام معاہدے ختم کر دے۔حکومت نے عراقی سرحدوں میں داخل ہونے والے پی کے کے تنظیم کے افراد کی گرفتاری کے حوالے سے بھی جو عراق اور ترکی کے درمیان معاہدے موجود ہیں انہیں بھی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ترکی کو فوجی کے ساتھ ساتھ سیاسی اوراقتصادی شعبوں میں بھی نقصان برداشت کرنے پڑیں گے۔ترکی دہشت گردی کی ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہے اب وہ دہشگردی میں ملوث طارق ہاشمی کو پناہ دیکر اسی طرح شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرکے اپنے موقف کی مخالفت کررہا ہے۔ترکی کے حالیہ اقدامات سے عراق کے ساتھ تجارتی تعلقات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ترکی کیطرف سے طارق ہاشمی کی حمایت کے بعد عراق نے ترکی کی مختلف کمپنیوں کی عراق میں رجسٹریشن کا سلسلہ بند کردیا ہے حالانکہ جرمنی کے بعد عراق ترکی کے لئے بڑی مارکیٹ تھی اور عراق کے لئے ترکی کی برامدات سن دوہزار گیارہ میں بارہ ارب ڈالر سے ذیادہ تھی۔۔عراق کے زرائع کا کہنا ہے کہ ترکی سعودی عرب اور قطر کے کہنے پرطارق ہاشمی کو باغی فوج یعنی آذاد فوج کا کمانڑر بنانا چاہتا ہے اس خبر کی تصدیق کی صورت میں عالمی سیاست میں ترکی کا چہرہ مزید مخدوش ہو جائیگا کیونکہ ترکی شام کے دہشت گردوں کے حمایت کی وجہ سے پہلے سے مختلف ملکوں اور رائےعامہ کی تنقیدوں کا نشانہ بنا ہوا ہے ۔ترکی کی فوج اس وقت شام کے مسائل میں الجھی ہوئی ہےاور عراق کے ساتھ کشیدگی کی صورت میں ترکی کی سیاسی حیثیت کو مذید دھچکا پہنچ سکتا ہےوہ بھی ایسے حالات میں جب رجب طیب اردوغان کی حکومت کو داخلی سطع پر بھی کڑی تنقیدوں کا سامنا ہے رجب طیب اردوغان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اردوغان کی پالیسیوں نے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کم سے کم کشیدگی کو زیادہ سے زیادہ کشیدگی میں تبدیل کر دیا ہے ۔اسی طرح شام کے خلاف انقرہ کے حالیہ موقف کی وجہ سے رجب طیب کے مخالفین ترکی کی موجودہ حکومت کومہم جو اورمغرب کی پالیسیوں سے ہم آہنگ حکومت جیسے نام دے رہے ہیںاور ایسے حالات میں ترکی کی طرف سے عراق کے معاملات میں مداخلت اس ملک کی مشکلات اور دشواریوں میں مذید اضافے کا باعث بنے گی.
.....
/169