29 ستمبر 2012 - 20:30

اسلامي جمہوريہ ايران کے وزير خارجہ نے کہا ہے کہ ناوابستہ تحريک کا مطالبہ ہے کہ صہیوني ریاست اين پي ٹي معاہدے ميں شامل ہو -

ابنا: وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي ميں ناوابستہ تحريک کے رکن ملکوں کي نمائندگي ميں کہا کہ صہیوني ریاست کو جو علاقے کي واحد حکومت ہے جس نے اين پي ٹي پر دستخط نہيں کئے ہيں اس معاہدے ميں کسي تاخير کے بغير شريک ہونا چاہئے اور اس کو چاہئےکہ وہ اپني ايٹمي تنصيبات کے دروازے آئي اے اي اے کے لئے کھول دے –ايران کے وزير خارجہ نے کہا کہ ناوابستہ تحريک کي اولين ترجيح يہ ہے کہ دنيا کو ايٹمي ہتھياروں سے پاک کيا جائے- انہوں نے کہا کہ ناوابستہ تحريک کو اس بات پر تشويش لاحق ہے کہ ايٹمي ہتھياروں کو نابود کئے جانے کا عمل انتہائي سست رفتاري کا شکار ہے اور جن ملکوں کے پاس ايٹمي ہتھيارموجود ہيں وہ اس سلسلے ميں کسي بھي طرح کي پيشقدمي کا مظاہرہ نہيں کررہے ہيں –ايران کے وزير خارجہ نے اسي طرح يہ بھي کہا کہ ناوابستہ تحريک سمجھتي ہے کہ پرامن مقاصد کے لئے ايٹمي سرگرمياں انجام دينے والي تنصيبات پر کسي بھي طرح کا حملہ بين الاقوامي قوانين اور آئي اے اي اے کے منشور کي کھلي خلاف ورزي ہے –

.......

/169