اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق، "بحرین کی بہار آزادی" تنظیم کے ایک راہنما "محمود آل ربیع" نے کہا کہ آل خلیفہ کے وزیر خارجہ نے اپوزیشن کی دستاویزی رپورٹوں کے جواب میں حقائق کو الٹ پلٹ کر دکھانے کی ناکام کوشش کی اور صرف ان ممالک نے ان کے موقف کی تائید کی جو خود دنیا بھر میں جبر و تشدد میں ملوث ہیں۔
اس بحرینی اپوزیشن راہنما نے کہا: صرف استبدادی اور تشدد پسند ممالک (امریکہ، برطانیہ ۔۔۔) نے آل خلیفہ حکومت کی تائید کی اور اس کو اس کے گناہوں سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی جبکہ ان ممالک نے اس حکومت کی مذمت کی جو خود بھی انسانی حقوق کا لحاظ رکھتے ہیں اور ان ممالک نے آل خلیفہ حکومت سے انسانی حقوق کی رعایت کرنے، اصلاحات انجام دینے اور جبر و تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ جبکہ آل خلیفہ کے وزیر خارجہ سمیت ایک سو رکنی وفد نے کانفرنس کو غلط اور بے بنیاد معلومات فراہم کیں۔
انھوں نے کہا: وزیر خارجہ اور سرکاری وفد کے اراکین نے دعوی کیا کہ بحرین میں مظاہرین اہل سنت کی مسجد میں داخل ہوکر اس کو تباہ کردیتے ہیں اور انھوں نے حقائق کو اس قدر الٹ کر بیان کیا کہ حاضرین ہنسنے لگے اور ان دعوؤ ں کے دوران کانفرنس ہال سے ہنسیوں کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں۔
انھوں نے کہا: آل خلیفہ حکومت ذرائع ابلاغ کے ذریعے رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی پالیسی پر کاربند ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ ان کے ہاں ثبوت کیا ہے اور وہ اس غلط بیانی کے لئے کن ثبوتوں کا سہارا لے رہی ہے؟
انھوں نے کہا: خلیفی وزير خارجہ صرف ان ملکوں کو راضی کرسکے جو خود بھی خلیفی روشوں پر عمل کررہے ہیں لیکن باقی ممالک کو قائل نہ کرسکے۔
.......
/169-110
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
کانفرنس میں بحرینیوں نے آل خلیفہ کا چہرہ بےنقاب کردیا / اپ ڈیٹس