بسم اللہ الرحمن الرحیم
ٹیری جونزکی ہنسی
نذر حافی
کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر " محمد رسول اللہ" صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پرچم لہرانے اور سید علی رضا تقوی کو گولی لگنےکی خبر میں نے پڑھی اور سنی تومجھے شدت سے احساس ہواکہ ہماری اس چھوٹی سی دنیامیں یوں تو ہر شئے کی ایک انتہااور حد ہے لیکن شایددوہرے پن،دوغلے پن اور دوہرے معیار کی کوئی انتہانہیں۔جو قوم دوہرے پن اور دوہرے معیار کی عادی ہوجائے اسے ذلت و رسوائی کی گھاٹیوں سے کوئی نہیں نکال سکتا۔ جیساکہ آپ جانتے ہیں کہ امریکی پادری کی"مسلمانوں کی معصومیت" نامی فلم منظر عام پر آنے کے بعد ہر روز اس کے خلاف احتجاج میں اضافہ ہی ہوتاچلاجارہاہےاور اب تک شاید دنیاکا کوئی ہی ملک یا خطہ ایسا ہوگا جس کے رہنے والوں بالخصوص مسلمانوں نے اس فلم کی مذمت نہ کی ہو۔ممکن ہے آپ اسے " لوگوں کی بیداری قراردیں"اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اسے "ناموس پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم" کی خاطر مسلمانوں کی یکجہتی قراردیں۔آپ اس فلم کے خلاف موجودہ احتجاجی تحریک کو جو مرضی ہے نام دیں،آپ جتنے مرضی ہے جلوس نکال لیں،ہزاروں کی تعداد میں ٹائر جلائیں،گھنٹوں لمبی لمبی تقریریں کریں،ہرملک اور ہر شہر کا پہیہ جام کردیں،ہر ریاست میں سول نافرمانی کا اعلان کردیں لیکن آپ کے پاس کوئی ضمانت نہیں کہ غیرمسلم دانشوروں اور میڈیا کی طرف سےآئندہ پیغمبرِ اسلام کی شان میں گستاخی نہیں کی جائے گی۔۔۔؟جی ہاں آپ کے پاس کوئی ضمانت نہیں۔۔۔؟آپ جائیے۔۔۔کسی سے ضمانت مانگ کر دیکھ لیجئے آپ کو احساس ہوجائے گا کہ اس امر کی ضمانت ملنا ناممکن ہے۔۔۔سوچئے اور ضرور سوچئے کہ آخر کیاوجہ ہے کہ دنیا میں ڈیڑھ ارب سے بھی زیادہ بسنے والے مسلمان اپنے پیغمبر کی ناموس کے تحفظ کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ اس سے بھی بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے پاس دوسروں کو کافر ثابت کرنے اور دوسروں کو قتل کرکے جنّت میں جانے کی گارنٹی تو موجود ہے لیکن ناموس پیغمبر کے لئے کوئی گارنٹی اور ضمانت نہیں۔جب آپ شیعہ اور سنّی، پنجابی اور پٹھان، عربی اور عجمی، ہندی اور پاکستانی، کشمیری اور افغانی، کالے اور گورے نیز وڈیرے اور کمّی سے بالاتر ہوکر سوچیں گے تو تب آپ کو اس سوال کا جواب خود بخود مل جائے گا ۔آپ جان جائیں گے کہ دنیا میں ایک بڑی اکثریت رکھنے کے باوجود ہمارے پاس اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ناموس کی حفاظت کے لئے کوئی ضمانت اور کوئی گارنٹی کیوں موجودنہیں۔آپ سوچیں گے توآپ کو اسلامی دنیا کی آستین میں سانپ اور مسلمانوں کے ہاں دوہرا معیار صاف دکھائی دے گا لیکن اس کے لئے آپ کو تمام تر تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر یہ سوچنا پڑے گا کہ کیا یہ "مسلمانوں کی معصومیت" نامی فلم اس لئے بری ہے کہ اس کا بنانے والا ایک عیسائی پادری ہے یا پھر اس لئے بری ہے کہ اس میں معراج انسانیت اور ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی گئی ہے۔۔۔؟ اگرآپ کے نزدیک اس فلم کی مخالفت کا معیار" ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی ہے"۔۔۔ تو پھر انصاف سے بتائیے کہ ۔۔۔ کیا جنّت البقیع میں رسول گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ اور ان کی آل کے مزارات کو منہدم کر کے توہین رسالت نہیں کی گئی؟کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اکلوتی بیٹی کے مزار کو گراکر ویران کرنے سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین نہیں ہوئی؟کیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب اور آل کے مزارات کو شرک کے مراکز کہنے سے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین نہیں ہوتی؟کیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مزار کی جالی کو چومنے والوں کو ڈانٹنے اور انہیں مشرک کہنےسے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہانت نہیں ہوتی؟کیا اولیائے کرام کے مقدس مزارات پر دھماکے کر نے سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہانت نہیں ہوتی؟کیا بے گناہ لوگوں کو قرآن مجید کی آیات پڑھ پڑھ کر جانوروں کی طرح ذبح کردینے سے قرآن اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین نہیں ہوتی؟کیا مسجدوں میں نمازیوں کو گولیاں ماردینے سے اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہانت نہیں ہوتی؟کیا بیت المقدس پر یہودیوں کے قبضے اور فلسطینیوں کی در بدری کے باوجود سعودی شہزادوں کے، صہیونی نیز امریکی و یورپی آقاؤں کے ساتھ جام چھلکانے سے اسلام اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہانت نہیں ہوتی؟کیا اپنے آپ کو طالبانِ اسلام کہنے والوں کے ہاتھوں بچیوں کے سکول بند کرانے اور عورتوں کو مجمع عام میں پیٹنے سے اسلام اور پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین نہیں ہوتی؟آپ جس بھی مذہب اور جس بھی مکتب سے تعلق رکھتے ہوں اپنے ضمیر سے پوچھئے کہ عورتوں اور بچوں کی چیخ وپکار کے درمیان، " کلمہ گو مسلمانوں کو" کلمہ پڑھتے ہوئے ، بسوں سے اتار کر موت کے گھاٹ اتار دینے سے اسلام اور پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں اضافہ ہوتاہے یا توہین ہوتی ہے۔۔۔؟امریکی پادری ٹیری جونز اور اس کے ہمنواوں کو یہ جرات صرف اسی لئے ہوئی ہے کہ وہ ہمارے دوہرے معیار اور دوہرے پن سے آگاہ ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جب مسلمان خود ہر روز پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کرکے "مجاہد اسلام" طالبانِ اسلام" اور "خادم الحرمین الشریفین" رہ سکتے ہیں اور کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو پھر انہیں مسلمانوں کے احتجاجات اور جلوسوں کو خاطر میں لانے کی کیا ضرورت ہے؟آج ناموس رسالت پر اپنی جان قربان کرنے والے "سید علی رضا تقوی" کا خون ہم سے کہہ رہا ہے کہ اے فرقوں اور علاقوں، نعروں اور تنظیموں، قبیلوں اور ٹولوں میں بٹے ہوئے مسلمانو! اگر ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے مخلص ہو تو میری طرح ظاہر و باطن کو ایک کردو، جس کے نام کا کلمہ پڑھتے ہو اس کے نام پر جان دے دو، جس کی امّت کہلاتے ہو اسی کی محبت کو زندگی کا معیار قرار دو، چاہے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی بھی ہو اس کی سزا ایک ہی مقرر کرو۔۔۔ بصورت دیگر نعرے لگاتے رہو اور احتجاج کرتے رہو!یقین جانیں ہمارے دوغلے پن، دوہرے معیار اور کھوکھلے احتجاجوں کو دیکھ کر ٹیری جونز ہنستا اور سید علی رضا تقوی روتا ہوگا چونکہ دونوں جانتے ہیں کہ جو قوم دوہرے پن اور دوہرے معیار کی عادی ہوجائے اسے ذلت و رسوائی کی گھاٹیوں سے کوئی نہیں نکال سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110