11 ستمبر 2012 - 19:30

وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے خطے ميں بيروني طاقتوں کي غير قانوني فوجي موجودگي کو دہشتگردي اور انتہا پسندي پھيلنے کا باعث قرار ديا ہے -

ابنا: اسلامي جمہوريہ ايران کے وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے ايشيائي ملکوں کے تعاون و اعتماد سازي کي تنظيم سيکا کے وزرائے خارجہ کے چوتھے اجلاس ميں جو قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ ميں ميں منعقدہوا کہا کہ امن و اسلامتي کي برقراري کے بہانے  علاقے ميں اغيار کي غير قانوني فوجي موجودگي تشدد و دہشت گردي اور انتہاپسندي  کو رواج دے رہي ہے جس کي وجہ سے علاقے کا استحکام خطرے سے دوچار ہوگيا ہے-اسلامي جمہوريہ  ايران کے وزير خارجہ نے سيکا تنظيم کے اہداف کو پايہ تکميل تک پہنچانے منجملہ امن و سلامتي کے ساتھ عالمي ترقي کے حصول کے لئے ايران کے ہمہ جانبہ تعاون کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ علاقائي تعاون جن ميں ٹرانسپورٹ ، توانائي کے ميدان ميں تعاون ، پاني کے ذخائر کا انتظام اور اسي طرح اقتصادي و ثقافتي تعاون شامل ہے علاقے ميں امن و استحکام کي برقراري کے لئےحالات کو سازگار بنا سکتا ہے- اسلامي جمہوريہ ايران کے وزير خارجہ نے افغانستان کے بارے ميں ايران کي اصولي پاليسي اور اس ملک کي تعمير نو کے لئے ايران کي جانب سے دي جانے والي مدد کا حوالہ ديتے ہوئے کہاکہ عالمي برادري کو چاہئے کہ وہ افغان پناہ گزينوں کے مسائل و مشکلات کو کم کرنے اور ان کي اپنے ملک رضاکارانہ طور پر واپسي کا مستقل حل نکالنے کے لئے عملي قدم اٹھائے جس کے لئے ضروري ہے کہ وہ افغانستان ميں بنيادي تنصيبات کے ڈھانچوں کي تعمير کے لئے عملي اقدامات کئے جائيں –اسلامي جمہوريہ ايران کے وزير خارجہ نے اسي طرح علاقے ميں امن و استحکام کے حامي ملکوں سے کہا ہے کہ وہ شام ميں حکومت اور مخالفين کے درميان قومي سطح کي گفتگو کا راستہ ہموار کرنے کے لئے اپني کوشش کريں انہوں نے کہاکہ اس طرح کي بات چيت سے شام ميں امن و امان بحال ہوگا اور وہاں جاري قتل و غارتگري کو روکا جاسکےگاايران کے وزير خارجہ صالحي نے شام ميں جاري تشدد اور بدامني کا دائرہ دوسرے ملکوں ميں بھي پھيل جانے کے تعلق سے خبردار کرتے ہوئے کہاکہ يہ بدامني اور عدم استحکام صرف اورصرف ان ملکوں کے فائدے ميں ہے جو علاقے ميں اختلاف و تفرقے کي آگ بھڑکانا چاہتے ہيں - اسلامي جمہوريہ ايران کے وزير خارجہ نے پرامن ايٹمي ٹکنالوجي کے حصول کے ايران کے حق کي حفاظت کي ضرورت پر زور ديتے ہوئے کہا کہ ايران کي ايٹمي تنصيبات کے خلاف ہر طرح کي دھمکي يا حملہ انساني ماحوليات اور بين الاقوامي اصول و آئي اے اي اے کے قوانين کے منافي ہے اس لئے ضروري ہے کہ اس طرح کي دھمکيوں کي روک تھام کے لئے ايک ٹھوس منشور تيار کيا جائےوزير خارجہ صالحي نے کہا کہ جديد ترين ايٹمي ہتھياروں کي ساخت اور گوداموں ميں ان کي حفاظت اور غير ايٹمي ملکوں کے خلاف ان ايٹمي ہتھياروں کے استعمال کو جائز ٹھہرانے جيسي پاليسياں انسانيت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہيں اس لئے ايٹمي ہتھياروں کے حامل ملکوں کو چاہئے کہ وہ اين پي ٹي کے مطابق اپنے ايٹمي ہتھياروں کو جلد سے جلد نابود کرديں- وزير خارجہ نے کہا کہ سيکا ملکوں کے ساتھ ايران کے تعلقات کي سطح روز بروز بہتر ہورہي ہے اور مستقبل میں ان تعلقات ميں مزيد توسيع ہوني چاہئے......./169