ابنا: صہیونی اخبار یدیعوت احارنوٹ نے صہیونی ریاست کے وزیر جنگ ایہود باراک " کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ سینا پر ختم ہونے والی تمام سرحدوں کو بند کرنے کے لئے ایک نیا قانون وضع کرنے کے درپے ہیں جب کہ اس مشکوک اقدام کوعلاقہ سینا پر حملے کی جدید پالیسی سے تعبیر کیا جارہا ہے ۔
ادھر حالیہ چند مہینوں سے مقبوضہ فلسطین کی مصر سے ملنے والی سرحد پر صیہونی حکومت کی سیکورٹی نے اس حقیقت کو واضح و آشکار کردیا ہے اور یہ اقدام اس غاصب حکومت کی اسٹراٹیجک دھمکیوں اور جنگ کی آگ بھڑکانے پر منحصر ہے ۔
مصر کے علاقہ سینا پر صیہونی حکومت کے دوبارہ حملے کی تیاریاں ایسے موقع پر ہے کہ محمد مرسی کی صدارت میں اس ملک کی نئی حکومت مصری عوام کے خواہش و آرزو کے مطابق مصر کو ، جو مقبوضہ فلسطین کے پڑوس ميں ہے مستقل حیثیت دینے کے شرائط فراہم کرنے کي کوششوں میں مصروف ہے ۔
اس سلسلے میں مصر کے صدر کے ترجمان نے کہا ہے کہ محمد مرسی نے صحرائے سینا میں توسیع کے لئے ایک ارب لیرہ مختص کیا ہے ۔
انیس سو سرسٹھ میں عرب ملکوں سے صہیونی ریاستکی ہونے والی جنگ کے دوران مصر کے علاقہ سینا پر صیہونی حکومت نے قبضہ کرلیا تھا اور انیس سو انیاسی میں کیمپ ڈیوڈ کے معاہدے کے دوران غاصب صیہونی حکومت کے بےشمار سیاسی و اقتصادی مفادات کے بدلے مشروط اور ظاہری طور پر پسپائی اختیار کرلی تھی۔
کیمپ ڈیوڈ کے ساتھ صہیونی ریاست کے شرائط بھی ایسی چیزوں پر مشتمل تھے کہ مصر کبھی بھی اس علاقے پر حکومت نہ کرسکے تا کہ صہیونی ریاست آئندہ بھی اپنی جنگ پسندانہ پالیسیاں اس علاقے پر برقرار رکھ سکے ۔
یہی وجہ ہے کہ مصر کے عوام اور افکار عامہ نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کو ایک گھناؤنی سازش اور بدترین معاہدہ قرار دیا ہے جو مکمل طور سے اس غاصب حکومت کے فائدے کو مدنظر رکھتے ہوئے آمادہ کیا گیا ہے اسی لئے مصر کے عوام اس کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہيں ۔
ایسے موقع پرصہیونی ریاست کا یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ حکومت کیمپ ڈیوڈ جیسےکئے گئے اپنے معمولی معاہدے کی بھی پابند نہیں ہے اور اسے آسانی سے نظر انداز کررہی ہے ۔
اسرائیل اور مصر معاہدہ یعنی کیمپ ڈیوڈ معاہدے میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ مقبوضہ فلسطین اور مصر کےسرحدی علاقے میں ٹینکوں کونصب نہیں کیا جائےگا اور اس سرحدی علاقے کو ہتھیاروں سے خالی رکھا جائے گا اور اس علاقے میں ہرطرح کے ٹینک ، ٹینک کو تباہ کرنے والی میزائلیں ، اور خطرناک ہتھیاروں کو بھی نصب نہیں کیا جائے گا۔
صہیونی ریاست کے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ غاصب حکومت کسی بھی معاہدے کی پابندی نہیں کرتی اور عرب ملکوں سے کئے گئے اپنے تمام معاہدوں کو عرب ممالک پر اپنی تسلط پسندانہ پالیسیوں کو تحمیل کرنے کے لئے اسے صرف اور صرف ایک آلہ کار اوراپنی کینہ توز سیاستوں کو جاری رکھنے کا بہترین موقع تصور کرتی ہے ۔
بہرحال صہیونی ریاست کی جنگ پسندانہ پالیسیاں اس بات کی عکاسی کررہی ہیں کہ یہ غاصب حکومت مصر میں اپنی تسلط پسند پالیسی جاری رکھنے کے درپے ہے اور مصر سمیت محتلف عرب ملکوں میں اپنا غاصبانہ اقتدار جمانے کے درپے ہے ۔
ایسے حالات میں مصر کے عوام نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کو ختم کرنے کی تاکید کی ہے اور مصر کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقہ سینا سمیت ملک کے خلاف صیہونی حکومت کی تسلط پسندانہ کاروائیوں سے مقابلے کے لئے ٹھوس اقدامات انجام دے۔
.....
/169