ابنا: بحريني عوام نے حکومت مخالف اپنے تازہ ترين احتجاجي مظاہروں ميں ايک بار پھر آل خليفہ حکومت کي برطرفي کا مطالبہ کيا اور اس عزم کا اعلان کيا کہ آل خليفہ حکومت کي سرنگوني تک وہ اپنے مظاہرے جاري رکھيں گے –
مظاہرين نے ساتھ ہي آل خليفہ حکومت کي جيلوں ميں بند سياسي قيديوں کي فوري رہائي کا بھي مطالبہ کيا –
بحريني عوام کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کي طرف سے عوامي مظاہروں پر عائد کي گئي پابنديوں کو خاطر ميں نہيں لائيں گے اور اپنے مظاہرے جاري رکھيں گے –
بحرين کي سياسي جماعتوں کا کہنا ہے کہ انہيں اپنے مظاہرے جاري رکھنے خاص طور پر بحريني عدالت کي عمارت کے باہر احتجاج کرنے کي اجازت دي جائے –
مظاہرين نعرے لگارہے تھے کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ سياسي قيديوں کو رہا کيا جائے اور ملک کي عدليہ آزاد ہو -
بحرين ميں ڈيڑھ سال سے عوامي مظاہرے جاري ہيں جن کے دوران سيکڑوں بحريني شہري شہيد اور زخمي ہوئے ہيں جبکہ بڑي تعداد ميں سياسي رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرليا گيا ہے - بحرين کے عوام نے آل خليفہ حکومت کي ظالمانہ پاليسيوں اور تشدد آميز اقدامات کي پروا کئے بغير حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاري رکھا ہے -
بحريني عوام کا بنيادي مطالبہ ہے کہ ملک ميں سياسي اصلاحات لائي جائيں جس کے نتيجے ميں ايک منتخب اور عوامي حکومت برسراقتدار آئے -
دريں اثناء اسلامي ايکشن پارٹي کے رہنما ہشام صباغ نے کہا ہے کہ بحرين کے عوام اپنے مظاہرے جاري رکھ کر آل خليفہ حکومت کے ظالمانہ قوانين کي دھجياں اڑا ديں گے –
ہشام صباغ نے کہا ہے کہ بحرين کي وزارت قانون و داخلہ کے ظالمانہ قوانين کے خلاف جن ميں عوامي مظاہروں پر پابندي کا اعلان کيا گيا ہے مظاہرے بدستور جاري رہنے چاہئيں- انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ بحرين کے عوام حکومت مخالف مظاہرے جاري رکھنے کا تہيہ کئے ہوئے ہيں کہا کہ حکومت بحرين نے عوام کے خلاف طاقت کا استعمال کرکے بحريني عوام سے مذاکرات کا نيا دروازہ کھولنے کا موقع بھي ہاتھ سے گنوا ديا ہے-
ہشام صباغ نے کہاکہ بحرين کے عوام حکومت مخالف پرامن مظاہرے جاري رکھنے ميں پوري طرح سنجيدہ ہيں اور جب تک ان کے مطالبات پورے نہيں ہوجاتے وہ اپنے مظاہرے جاري رکھيں گے-
.....
/169