ابنا: بحرين کي بيس سياسي اور سماجي شخصيتوں کے خلاف اس ملک کي عدالت کے فيصلے کي توثيق ہوجانے کے بعد ملک کے عوام اور مختلف حلقوں کي طرف سے شديد ردعمل کا اظہار کيا گيا ہے - بحرين کے عوام اور سياسي جماعتوں نے طويل مدت تک قيد کي سزا اور خاص طور پر بحرين کي آٹھ سياسي اور سماجي شخصيتوں کے خلاف عمر قيد کي سزا کو جن ميں عبدالہادي الخواجہ اور حسن مشيمع جيسي اہم شخصيات بھي شامل ہيں ظالمانہ قرارديا ہے - عبدالہادي الخواجہ کي بيٹي مريم الخواجہ نے اپنے والد اور بحرين کي ديگر سياسي شخصيتوں کے خلاف عدالتي فيصلوں کے بارے ميں کہا کہ اس طرح کے فيصلے ہمارے لئے غير متوقع نہيں تھے کيونکہ جس حکومت کا بين الاقوامي اداروں اور عالمي برادري کي طرف سے کسي بھي طرح کا نوٹس نہيں ليا جائےگا اس سے اس سے بہتر کسي فيصلے کي توقع نہيں کي جاسکتي -
اس درميان دارالحکومت منامہ ميں عوام نے وسيع احتجاجي مظاہرہ کرکے ملک کي اعلي عدالت کي طرف سے سياسي رہنماؤں کے خلاف سنائي گئي سزاؤں کي توثيق پر شديد احتجاج کيا ہے - بحريني عوام نے اپنے ملک کي عدالت کے اعلي عہديداروں سے کہاکہ وہ بحرين کے انساني حقوق مرکز کے سربراہ نبيل رجب اور عبدالہادي الخواجہ اور حسن مشيمع جيسے سبھي سياسي رہنماؤں کو رہا کرے - بحرين کي جمعيت وفاق پارٹي کے ڈپٹي سکريٹري جنرل خليل مرزوق نے بھي بحرين کي اعلي عدالت کے اس فيصلے کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کي اعلي عدالت نے سياسي رہنماؤں کے خلاف سزاؤں کي توثيق کرکے ثابت کرديا ہے کہ آزاد نہيں بلکہ آل خليفہ حکومت کے حکم کي تابع ہے -
بحرين ميں گذشتہ برس فروري سے جب سے لوگ اپنے بنيادي مطالبات کے حق ميں پرامن احتجاج کررہے ہيں سيکورٹي اہلکاروں کي طرف سے لوگوں کو بڑے پيمانے پر گرفتار کيا جارہا ہے - گذشتہ ڈيڑھ برس ميں دسيوں بحرينيوں کو شہيد کيا جاچکا ہے- يہ ايسي حالت ميں ہے کہ مظاہرين پر مسلسل تشدد اور زہريلي گيس کے گولوں کا استعمال کيا جارہا ہے جبکہ بڑے پيمانے پر لوگوں کو گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا ہے - بحرين کي جمعيت وفاق پارٹي کے رہنما مجيد ميلاد نے کہا ہے کہ ملک کي اعلي عدالت نے نچلي عدالتوں کے فيصلوں کي توثيق کرکے اپني استبدادي ماہيت سے پردہ ہٹا ديا ہے- انہوں نے کہا کہ عدالت کا تازہ ترين فيصلہ آل خليفہ حکومت کي طرف سے ان کوششوں کا مذاق اڑانا ہے جو عالمي سطح پر انساني حقوق کي پائمالي کي مذمت کرنے کے لئے کي جارہي ہيں -
ايسا لگتا ہے کہ اب اعلي عدالتوں کي طرف سے سياسي رہنماؤں کي سزاؤں کي توثيق کرديئے جانے کے بعد بحرين کا انقلاب ايک نئے مرحلے ميں داخل ہوا چاہتا ہے اور اب يہ توقع عام ہوگئي ہے کہ آنےوالے دنوں ميں عوامي تحريک اور انقلاب ميں مزيد شدت آئے گي-
.......
/169