3 ستمبر 2012 - 19:30

تہران میں ناوابستہ تحریک کے سولہویں سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کے خلاف مغربی اور صہیونی ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈے عروج پر تھے ، جواجلاس کی کامیابی کے بعد ٹھنڈے پڑ گئے، لیکن یہ پروپیگنڈے دوسری شکل میں اب بھی جاری ہیں ۔

ابنا: صہیونی حلقے اس وقت ایران کے خلاف بعض اسرائیلی حکام کی طرف سے دی جانے والی دھمکیوں کاپروپیگنڈہ کرکے تہران اجلاس کی کامیابی کے بارے میں اپنے سنہرے خوابوں کی ناکامی اور شکست پر پردہ ڈال کر عالمی رائے عامہ کو منحرف کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ایک اسرائیلی اخبار نے اپنی حالیہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ امریکہ نے پس پردہ ایران سے رابطہ کرکے ایران اسرائیل کے درمیان ممکنہ جنگ کی صورت میں خود کو جنگ سے دور رکھنے کے لئے کچھ شرطیں رکھی ہیں جو ایران کے خلاف ان کے ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈوں کا ایک حصہ ہے ۔ صہیونی اخبار یدیعوت آحارنوت نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا  کہ امریکہ نے دو یورپی ملکوں کے ذریعے ایران کو پیغام دیا ہے کہ ایران پر اسرائیل کے حملے کی صورت میں ایران اگر خلیج فارس میں امریکی مفادات کے خلاف حملہ کرنے سے پرہیز کرے گا تو وہ اسرائیل کے حق میں جنگ میں شامل نہیں ہوگا۔ وہائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے اس خبر کو غلط قرار دیتے ہوئے (کہ یہ رپورٹ غلط ہے) کہا کہ وہ فرضی مسائل کے بارے میں گفتگو نہيں کرتے ہیں ، لیکن انھوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے میں متحد ہیں اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان کسی طرح کا کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ہے ۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے پیر کے دن شائع ہونے والی رپورٹ میں لکھا ہے کہ باراک اوباما کے بعض مشیروں نے انھیں مشورہ دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو علی الاعلان  یہ اطمینان دلائیں کہ ایران میں  اگر ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت پیدا ہوگئی یا وہ عنقریب ایٹمی ہتھیار بنالے گا تو امریکہ اس پر حملہ کردے گا ۔اس کے مقابلے میں امریکہ کے اعلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل اوباما کو ایران کے خلاف جنگ میں اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے حالانکہ ابھی اس چیز کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس سے قبل امریکی فوج کے سربراہ مارٹین ڈمپسی کہا تھا کہ حکومت اوباما نہیں چاہتی ہے کہ ایران کے ایٹمی تنصیبات پر حملے کے سلسلے میں امریکہ کو اسرائیل کا شریک سمجھا جائے ۔ اس طرح کے بیانات ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ اسٹراٹیجک کا ایک حصہ ہے ۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی پالیسی ایک سکے  کے دو رخ ہیں اور دونوں ہی ایک مقصد کے تحت قدم اٹھاتے ہیں ۔ اوباما نے اسرائیل کو جو یہ اطمینان دلایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ قائم ہے جوکبھی نہيں ٹوٹ سکتا وہ اسی نظریے کی مؤید ہے ۔ اسی لئے مبصرین اسرائیلی حکام کے بیانات کو اس بات سے قطع نظر کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے موقف کو اسرائیلی فوج کے حکام کی تشویش جانتے ہیں ، کیونکہ  اسرائیل میں اتنی جرائت نہیں ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی حملہ کرسکے اور اگر امریکہ اسرائیل کی حمایت سے اپنا ہاتھ کھینچ لے تو اسرائیل بہت ہی جلد کمزور پڑجائے گا۔ اسرائیل اس وقت داخلی سطح پر شدید بحران سے دوچار ہے اور لبنان کے ساتھ تینتیس اور فلسطین میں حماس کے ساتھ بائیس روزہ جنگ میں ذلت آمیز ناکامی اور شکست سےاسے ناقابل فراموش زک پہونچ چکی ہے  ۔ اس لئے کہ امریکہ اور اسرائیلی حکام کو یقین ہے کہ ایران کے ساتھ الجھنے کی صورت میں بھی انھیں سنگین نتائج سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ اسی لئے اسرائیلی حکام ایران کے خلاف اسٹراٹیجک پروپیگنڈے میں دو اہم مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ پہلا مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں غلط پروپیگنڈہ کر کے ایران پر شدید دباؤ اور جنگ کی دھمکی دینا ہے  اور دوسرا مقصد امریکہ سے زیادہ سے زیادہ جنگی ساز وسامان حاصل کرنا ہے ۔ اس لئے کہ اسرائیلی حکام جانتے ہیں کہ اوباما صہیونی لابی کی توجہ کو اپنی طرف موڑ نا چاہتے ہیں اور نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں انھیں صیہونی حکومت کی حمایت کی سخت ضرورت ہے ، اسی لئے ان فرضی اور بے بنیاد پروپیگنڈوں کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو منحرف کرنا چاہتے ہيں کہ پس پردہ امریکہ اور ایران  کے درمیان خفیہ معاہدہ ہوا ہے اور اس طرح کے مسائل کے ذریعے ایران کے خلاف بھر پور طریقہ سے منفی پروپیگنڈہ کرنا چاہتے ہيں ۔

.....

/169