31 اگست 2012 - 19:30

امريکی ميڈيا کا کہنا ہے 2010ء ميں افغانستان سے واپس آنے والے 121 فوجی خودکشی کرچکے ہيں۔ 2006ء سے اب تک امريکی فوجيوں ميں خودکشی کی شرح 25 فيصد بڑھ گئي ہے۔ 2009ء ميں 2ہزار 100 فوجيوں نے خودکشی کی کوشش کی، ليکن انہيں ”انسدادِ خودکشی تنظيم“ نے بچا ليا۔ يہ فوجی جب افغانستان سے واپس اپنے وطن اور گھر پہنچتے ہيں تو بعض اوقات عجيب و غريب مناظر پيش آتے ہيں۔ کوئی استعفٰی ديتا ہے تو کوئی ہميشہ کے ليے باغی بن جاتا ہے۔رواں سال ہماری فوج ميں خودکشيوں کی شرح ميں ريکارڈ اضافہ ہوا ہے،

ابنا: امريکا کے مرکز صحت کی جاری کردہ رپورٹوں کے مطابق عراق و افغانستان ميں تعينات افواج کی کثير تعداد اپنی قدرتی صلاحيتيں کھو بيٹھی ہے۔ افغانستان سے واپس آنے والے فوجيوں ميں ”دماغی بيماری“ کی وبا پھيل چکی ہے۔ ہزاروں ديگر غير رجسٹرڈ فوجی بھی دماغی امراض کا شکار ہيں۔ افغانستان سے واپس آنے والے فوجی اور معاون دستوں ميں سے 22 ہزار اہلکار دہشت و خوف ميں مبتلا ہيں۔ ايک سرکاری رپورٹ کے مطابق فوجی کيمپوں ميں طبی سہوليات ناکافی ہونے کی وجہ سے 50 فيصد بيمار فوجيوں کا علاج نہيں ہوسکا ہے اور کثير تعداد ميں بيمار فوجيوں کے علاج معالجہ کے اخراجات ان کے گھر والوں نے خود اٹھائے ہيں۔ ايک رپورٹ ميں کہا گيا ہے 2006ء ميں جنگ سے لوٹنے والے ايک لاکھ 94 ہزار 2 سو 54 فوجی اہلکار بےگھر ہونے کی وجہ سے سڑکوں پر زندگی گزار رہے ہيں۔ 2008ء کی ايک سروے رپورٹ کے مطابق فٹ پاتھوں پر زندگی گزارنے والوں ميں سے ہر 3 افراد ميں ايک فوجی ہے، جو ميدانِ جنگ سے واپس آيا ہوا ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے ليے امريکی حکومت نے 15 ہزار مکانات اور رفاہی اداروں نے 8 ہزار گھر ان فوجيوں کے ليے فراہم کيے ہيں، ليکن اب بھی ہزاروں فوجی غربت کی وجہ سے گھٹيا حرکتيں کرنے پر مجبور ہيں۔

امريکی عدالت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق7 ملين قيديوں ميں سے 12 فيصد وہ فوجی ہيں جو ميدانِ جنگ ميں تعينات رہے ہيں اور ان قيدی فوجيوں ميں سے ہر 5 ميں سے 4 فوجی منشيات نوشی ميں مبتلا ہيں۔ امريکی وزير طب و صحت نے بتايا افغانستان سے واپس آنے والے فوجيوں کي نفسياتی بيماری ان کے گھر والوں پر اثر انداز ہوگئی ہے۔ چنانچہ ان کے بچوں ميں بھی خودکشی کا رجحان روز بہ روز بڑھ رہا ہے۔ امريکی ميڈيا کا کہنا ہے 2010ء ميں افغانستان سے واپس آنے والے 121 فوجی خودکشی کرچکے ہيں۔ 2006ء سے اب تک امريکی فوجيوں ميں خودکشی کی شرح 25 فيصد بڑھ گئي ہے۔ 2009ء ميں 2ہزار 100 فوجيوں نے خودکشی کی کوشش کی، ليکن انہيں ”انسدادِ خودکشی تنظيم“ نے بچا ليا۔ يہ فوجی جب افغانستان سے واپس اپنے وطن اور گھر پہنچتے ہيں تو بعض اوقات عجيب و غريب مناظر پيش آتے ہيں۔ کوئی استعفٰی ديتا ہے تو کوئی ہميشہ کے ليے باغی بن جاتا ہے۔ کوئی بقيہ زندگی اپنے گھر کی چارديواری تک محدود رہتا ہے تو کوئی امريکی انتظاميہ کے خلاف اين جي اوز ميں شامل ہو کر افغانوں کا ہمدرد بن جاتا ہے اور کوئی طالبان کے حسنِ سلوک سے متاثر ہو کر مسلمان ہو جاتا ہے۔ جس طرح طالبان کے خلاف لڑنے والا ايک امريکی فوجی طالبان کے رويوں سے متاثر ہو کر اسلام کے دامنِ رحمت ميں آگيا۔ حال ہی ميں تمام اخبارات ميں تصوير چھپی ہے، امريکی رياست کيلی فورنيا ميں عراق سے واپس آنے والا ايک سارجنٹ ”اسٹيوروڈک“ اپنی بيوی بچوں سے لپٹا زاروقطار رو رہا ہے اور زبان سے حال کہہ رہا ہے: ”خدا کسی کو اس جہنم ميں لے نہ جائے۔“

يہ ہيں دنيا کی بہترين فوج اور تين درجن سے زائد اتحاديوں کے سرغنہ سپر طاقت کے حالات۔ يہ ہے اللہ کي پکڑ ان لوگوں پر، جنہوں نے افغانستان اور عراق ميں لاکھوں انسانوں کے خون سے ہولی کھيلی۔ بےگناہ بچے، بچياں اور بوڑھے، مرد و خواتين کی لاشوں کا ميلہ سجا ديا۔ ابو غريب، بگرام اور گوانتاناموبے ميں بےگناہ قيديوں پر انسانيت سوز مظالم ڈھائے۔ جب ہم امريکا کو اندرونی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار دیکھتے ہيں تو ہم پر قرآن کی سورةِ حشر کی يہ آيت مزيد واضح ہوفجاتی ہے: ”کفار اور منافقين کا گمان ہے ان کے قلعے اور مضبوط عمارتيں انہيں اللہ کے عذاب سے بچا سکتے ہيں، ليکن اللہ نے ان کو ايسی جگہ سے پکڑ ليا کہ وہ سوچ بھي نہيں سکتے۔“

جب ميدانِ جنگ سے اپنی مضبوط عمارتوں ميں واپس لوٹتے ہيں تو اللہ ان کو جسمانی، دماغی، نفسياتی اور طرح طرح کے امراض اور بيماريوں ميں مبتلا کر ديتا ہے۔ اگر ان بيماريوں کی وجہ سے موت انہيں نصيب نہيں ہوتی تو وہ خودکشی کا راستہ اختيار کرتے ہيں، جس کا امريکی فوج کے کمانڈر جنرل ”جيمزآموس“ پوري دنيا کے سامنے نہ چاہتے ہوئے بھی برملا اعتراف کرنے پر مجبور ہيں۔

تحریر: انور غازی

.....

/169