ابنا: خبروں ميں کہا جارہا ہے کہ قطر کے امير شيخ حمد بن خليفہ آل ثاني اپني خرابي صحت کي بنا پر اقتدار و تخت و تاج اپنے وليعہد کے حوالے کرنا چاہتے ہيں –ايک امريکي سفارتکار نے جو ابھي حال ہي ميں دوحہ سے امريکا واپس لوٹا ہے بتايا کہ امير قطر شيخ حمد بن خليفہ آل ثاني نے سيکورٹي محکموں ميں جو تبديلياں کي ہيں اس سے يہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اقتدار اپنے وليعہد کو حوالے کرنے ميں سنجيدہ ہوگئے ہيں - بہت سے سياسي حلقوں کا کہنا ہے کہ قطر کے وزيراعظم حمد بن جاسم بن جبر آل ثاني کے ذريعے جو اس ملک کے وزير خارجہ بھي ہيں شاہي حکومت کے خلاف ايک بغاوت کے انديشے کے پيش نظر امير قطر اب اقتدار کو پرامن طريقے سے اپنے وليعہد کو منتقل کرنے کے بارے ميں سنجيدگي سے غور کررہے ہيں –واضح رہے کہ قطر کے موجودہ امير شيخ حمد بن خليفہ آل ثاني نے انيس سو پچانوے ميں اپنے والد کے خلاف ايک بغاوت کے ذريعے جو کسي خون خرابے کے بغير انجام پائي اقتدار اپنے ہاتھ ميں لے ليا تھا - شيخ حمد بن خليفہ آل ثاني کے والد نے بھي انيس بہتر ميں اس وقت کے امير کے خلاف ايک بغاوت کرکے اقتدار پر قبضہ کرليا تھا ايسا لگتا ہے کہ بغاوت کے ذريعے ہي تخت شاہي کا حصول قطر ميں ايک معمول بن گيا ہے اور شايد قطر کي يہي وہ تاريخ ہے جس نے موجودہ امير کو ايک بغاوت کے انديشے ميں مبتلا کررکھا ہے کيونکہ قطرکے موجودہ وزير اعظم اور وزير خارجہ حمد بن جاسم بن جبر آل ثاني نے اس وقت اپنے آپ کو اقتدار کا سب سے زيادہ مستحق اور اہل سمجھتے ہيں ايک عرصے سے امير قطرشيخ حمد اور وليعہد شيخ تميم کي موجودہ وزير اعظم و وزير خارجہ سے خفيہ طور پر اقتدار کي جنگ جاري ہے يہاں تک کہ امير قطر نے وليعہد شيخ تميم کي حفاظت اور سيکورٹي پر مامور سبھي اعلي افسروں کو تبديل کرديا ہے جبکہ قطر کے تين اعلي فوجي افسروں کو ان کے گھروں ميں نظر بند کيا جانا اور حمد بن جاسم کے کچھ قريبي فوجي افسران پر بيرون ملک جانے پر پابندي وہ جملہ اقدامات ہيں جو امير قطر نے موجودہ وزير اعظم شيخ حمد بن جاسم بن جبر آل ثاني پر گہري نظر رکھنے اور شاہي تخت وتاج کو اپنے ہي خاندان ميں باقي رکھنے کے لئے اپنا رکھے ہيں –قطر کے امير کے ان کي تين بيويوں سے دس بيٹے اور تيرہ بيٹياں ہيں گذشتہ سال ستمبر ميں جب فرانس کےسابق صدر سارکوزي کے ساتھ ان کي ملاقات کے دوران ان کي بيماري کا راز فاش ہوا اس وقت سے امير قطر کے بيٹوں اور اسي طرح بن خليفہ اور بن جاسم خاندانوں ميں اقتدار کي جنگ بھي کھل کر سامنے آگئي اس وقت حمد بن جاسم کو قطر کے شاہي تخت و تاج کے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھا رہا ہے اسي لئے قطر کے امير نے اپنے بيٹے تميم کو ملک کا آئندہ امير بنانے کے لئے راستہ ہموار کرنے کي غرض سے اپني زيادہ تر ذمہ دارياں بھي تميم کے ہي سپرد کردي ہيں.
.......
/169