25 اگست 2012 - 19:30

کينيا کي ريڈکراس سوسائٹي نے ملک ميں جاري نسلي تشدد کے واقعات ميں اضافے کي بابت سخت تشويش ظاہر کي ہے-

ابنا: جنوب  مشرقي کينيا ميں رقيب نسلي گروہوں کے درميان ہونے والي جھڑپوں ميں کم سے کم باون افراد مارے گئے ہيں-زرعي اراضي اور پاني کي تقسيم پر ہونے والے اختلافات نے "اورما" اور "پوکوٹو" نامي نسلي گروہوں کو ايک دوسرے کے ساتھ جھڑپوں ميں الجھاديا اورمرنے والوں کا انتقام لينے کے جذبے نے جھڑپوں کو جاري رکھنے ميں اہم کردار ادا کيا ہے-حکومت نے نو قبائيلي سرداروں کو مخالف قبائيل کے خلاف عوام کو اکسانے کے الزام  ميں گرفتار بھي کرليا ہے- کينيا کے وزيراعظم رائيلا اوڈنگا نے کہا ہے کہ حکومت، قبائيلی سرداروں کے تعاون سے قيام امن کا پائيدار حل تلاش کرنے کے لئے پوري طرح تيار ہے-انہوں نے کہا کہ شورش زدہ علاقوں ميں حالات پرقابو پانے کے لئے فوج روانہ کردي گئي ہے-کينيا کي مخلوط حکومت کے وزيراعظم نےکہا ہے کہ  مرنے والوں کے لواحقين کو تاوان ادا کرنے کے علاوہ انتقامي کاروائيوں کي روک تھام  بھي ضروري ہے-

.......

/169