اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اہل بیت (ع) اسمبلی نے اپنے بیان میں زور دیا ہے کہ یوم القدس امریکہ اور صہیونیت کے جبر اور قبضے و غصب اور جارحیت کے مقابلے میں امت کی یکجہتی کا دن ہے۔ اس بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ امت اسلام کے اتحاد کا نتیجہ فلسطین کی فتح، قدس شریف کی آزادی کے جشن اور قبلہ اول میں مسلمانان عالم کی نماز وحدت کی برپائی ہو۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے بیان کا متن:
بسم الله الرحمن الرحیم سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ۔وہ ذات پاک ہے جو رات کے تھوڑے سے حصے میں اپنے (محبوب اور مقرّب) بندے کو مسجدِ حرام سے (اس) مسجدِ اقصٰی تک لے گئی جس کے گرد و نواح کو ہم نے بابرکت بنا دیا ہے تاکہ ہم اس (بندۂ کامل) کو اپنی نشانیاں دکھائیں، بے شک وہی خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔
ایک بار پھر اللہ تعالی کا لطف اسلام کی عظیم امت کے شامل ہوا اور رمضان المبارک کی عظیم الہی ضیافت اور ایک ماہ کی عبادت اور بندگی کے آخر میں مظلومین اور مستضعفین کے دفاع کا دن "یوم القدس" آن پہنچا۔ یوم القدس عصر حاضر میں اسلام کو زندہ کرنے والے عظیم راہنما حضرت امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی یادگار ہے۔ امام خمینی رحمۃاللہ علیہ نے ایسے حال میں مزاحمت اور استقامت کی دعوت عام دی جب پورے عالم عرب پر ناامیدی چھائی ہوئی تھی اور بعض اسلامی ممالک کے غدار حکمران حتی کہ فلسطینی تحریکوں کے راہنما کہہ رہے تھے کہ: "اسرائیل ایسی حقیقت ہے جس کو تسلیم کرنا چاہئے!" اور اسی صورت حال میں امام خمینی رحمۃاللہ علیہ نے فلسطین کے مشن کو زندہ کیا۔ جمعۃالوداع کو امام خمینی رحمۃاللہ علیہ نے یوم القدس کا نام دیا جو ایک الہامی نام تھا اور پوری دنیا کے مسلمانوں نے اس نام گذاری کا زبردست خیرمقدم کیا اور اس نام نے نہ صرف ساز باز کرنے والوں کے منصوبوں کو ناکام بنایا بلکہ سلامتی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی پہلؤوں میں غاصب صہیونی ریاست کو تنزل کی راہ پر گامزن کردیا۔ ہمیں نہيں بھولنا چاہئے کہ 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ لبنان کی فتح اور 22 روزہ مزاحمت میں اسلامی مزاحمت کی فتح، عالمی یوم القدس کے ثمرات ہیں اور آج بھی اسلام کی عالمگیریت اور اسلامی بیداری کا سلسلہ، امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کی اسی حرکت کا تسلسل ہے جو آپ نے قدس شریف اور مسلمانان عالم کی حیثیت کے تحفظ کے لئے شروع کی تھی۔ یہی حیرت انگیز مزاحمت تھی جس کی وجہ سے دنیا کو اپنی میراث سمجھنے والی استعماری اور صہیونی قوتوں نے انتقام کی آگ مسلم ملک "شام" میں بھڑکا دی ہے تا کہ اس ملک کے بے گناہ عوام کو خاک و خون میں تڑپا کر مقدس مزاحمت تحریک سے انتقام لے سکیں اور زخم خوردہ امریکی اور صہیونی بھیڑیے رو بہ زوال صہیونی ریاست کی مددکریں اور اس کو اٹل نابودی سے چھٹکارا دیں۔ لیکن کہنا چاہئے کہ "الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن دِينِكُمْ فَلاَ تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ"؛ آج کافر لوگ تمہارے دین (کے غالب آجانے کے باعث اپنے ناپاک ارادوں) سے مایوس ہو گئے، سو (اے مسلمانو!) تم ان سے مت ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرا کرو"۔ (سورہ مائدہ آیت 3) کیونکہ نہ صرف فلسطین اور بااستقامت مسلمان دشمنوں کی سازشوں سے نہیں ڈرتے بلکہ وہ لوگ جو چاہتے تھے کہ فلسطین، لبنان، شام، عراق اور مصر میں اسلام اور مزاحمت کا نام و نشان تک نہ رہے، امام خمینی رحمۃاللہ علیہ کے دم مسیحائی اور شہدائے مزاحمت کے مقدس خون کی برکت سے خود بھی ذلت اور خواری کا شکار ہوچکے ہیں اور اندرونی و بیرونی بحرانوں ـ منجملہ اپنے غاصب باشندوں کی مسلسل خودسوزیوں ـ جیسے مسائل میں مبتلا ہوچکے ہیں اور بے بسی اور عاجزی ان کے پورے وجود پر چھاگئی ہے۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی اس مقدس دن کی آمد پر، عالم اسلام کی بیداری کے عظیم قائد حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کی پیروی کرتے ہوئے، تمام مسلمانان عالم سے بالعموم، اور پیروان و محبان اہل بیت (ع) کو دعوت دیتی ہے کہ عالمی یوم القدس کو زیادہ سے زیادہ شکوہ اور شان و شوکت سے منعقد کرکے مزاحمت محاذ کی حمایت کریں اور فلسطین اور مسلمانوں کے قبلہ اول کی آزادی اور غاصب صہیونی ریاست کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں اپنی تاریخی ذمہ داری کو نبھانے پر اصرار کریں۔اس بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ امت اسلام کے اتحاد کا نتیجہ فلسطین کی فتح، قدس شریف کی آزادی کے جشن اور قبلہ اول میں مسلمانان عالم کی نماز وحدت کی برپائی ہو۔
عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی25 رمضان المبارک1433
..............
/110