اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے مکہ معظمہ میں اسلامی ممالک کے سربراہوں کے ہنگامی اجلاس کے موقع پر کل شام ترکی کے صدر عبداللہ گل سے ملاقات کی اور طنزیہ انداز سے شام کے بارے میں ترکی کی غیراصولی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: "واقعات اور حوادث گذر جاتے ہیں لیکن یہ ہم ہیں جو یہاں رہیں گے اور ایک دوسرے کے ساتھ کام کریں گے"۔ انھوں نے کہا: قومیں عدل و انصاف اور آزادی اور احترام چاہتی ہیں اور کوئی بھی طاقت کے ذریعے کامیاب ہوکر بھی کامیاب نہيں سمجھا جاتا اور جو حکومت طاقت کے ذریعے معرض وجود میں آتی ہے وہ کل کلاں اپنی خودمختاری کا تحفظ نہیں کرسکتی۔انھوں نے اصلاحات کی روشوں کے بارے میں کہا کہ یہ ایک قابل بحث موضوع ہے اور علاقے کے رجعت پسند حکمرانوں کے بارے میں بھی طنزیہ انداز اپنا کر کہا: اصلاحات کا مسئلہ ایک قطعی مسئلہ ہے لیکن اصلاحات جنگ اور قتل عام و خونریزی کے ذریعے نہیں ہونی چاہئیں؛ البتہ ہم منتظر ہیں کہ یہ اصلاحات دوسرے ممالک تک کب پہنچ رہی ہیں؟۔صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے اس کے بعد سعودی عرب، بحرین، قطر وغیرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مجھے حیرت ہوئی کہ اس اجلاس میں بعض ملکوں کے "بادشاہ" شام کے خلاف تقریریں کررہے تھے جبکہ ان کے اپنے ملکوں کے عوام کی اکثریت انہيں نہیں چاہتی!۔صدر اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا: ایران شام میں امن و استحکام اور انسانی و عادلانہ حالات کی بحالی کے لئے جو بھی ممکن ہو انجام دے گا تا کہ "عوام کا قتل عام نہ ہو اور حالات پیچیدہ نہ ہوں"۔ صدر نے پچھلی رات کی نشست میں مصر کے صدر محمد المرسی کے منصوبے کے بارے میں کہا: المرسی کی تجویز اچھی تھی لیکن ہماری کوشش ہے کہ ایک ایسے راہ حل تک پہنچیں جس میں ملکوں کے عوام کی اکثریت اپنے ملکوں کے لئے ہونے والے فیصلوں میں حصہ لے سکیں اور کردار ادا کرسکیں۔صدر عبداللہ گل نے بھی شام میں اپنے ملک کے کردار کی طرف اشارہ کئے بغیر کہا: ہم آپ کے دوست ہیں اور یہ درست ہے کہ آپ عدل و انصاف کے خواہاں ہیں چنانچہ ہم بھی اپنے اہداف کے حصول کی کوشش کررہے ہیں اور صرف اقتدار میں رہنے کے لئے نہیں آئے ہیں اور ہماری دوستی اقتدار کے لئے نہیں ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ علاقے میں امن و سکون کی بحالی کے لئے قدم اٹھائیں۔دوسرے ملکوں کے سربراہوں سے ملاقاتصدر اسلامی جمہوریہ ایران نے سوڈان کے صدر عمر البشیر سے بھی ملاقات کی اور دو ملکوں کے درمیان تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا: سوڈان دشوار صورت حال سے گذر رہا ہے اور اس ملک پر بیرونی دباؤ بہت زیادہ ہے لیکن آپ استقامت کریں گے تو یقین کریں کہ اللہ کا وعدہ حق ہے۔ صدر اجلاس مکہ کے موقع پر سعودی بادشاہ، گنی بساؤ اور مصر کے صدور سے بھی ملاقاتیں کیں۔
ــ مکہ اجلاس شام کے نظام میں تبدیلی میں شکست کی علامتروزنامہ الوفاق کے چیف ایڈیٹر نے کہا: مکہ معظمہ میں اسلامی تعاون تنظیم ایسے حال میں منعقد ہورہا ہے کہ شام کی حکومت کی تبدیلی کے لئے طاقت کے استعمال کے حامیوں کو بھاری شکست کھانی پڑی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے عربی روزنامے الوفاق کے چیف ایڈیٹر "مصیب نعیمی" نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: بعض ممالک نے مغربی ایجنڈے کا حصہ بن کر شام کو خطرناک بین الاقوامی جنگ کے میدان میں تبدیل کیا لیکن اب وہ اپنے مذموم مقاصد تک پہنچنے میں ناکام ہوچکے ہیں اور عرب ممالک کی طرف سے اس طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب نظام ہائے حکومت مکمل طور پر شکست کھا چکے ہیں کیونکہ انھوں نے شام کے مسئلے میں غیرجانبداری کا ثبوت دیئے بغیر شام کے مسئلے میں ایک فریق کے ملزم ٹہرایا اور دوسرے فریق کی ہمہ جہت حمایت کی۔ نعیمی نے کہا: اجلاس مکہ کے شرکاء نے کہا ہے کہ اس ہنگامی اجلاس کا مقصد برما اور شام کے مسائل کا جائزہ لینا ہے لیکن انھوں نے بحرین کی مظلوم ملت کو مکمل طور پر ایجنڈے سے باہر رکھا ہوا ہے، اور یہ مسئلہ غیرجانبداری اور عقلیت و منطق کی دعویدار تنظیم کے لئے مناسب نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: جو لوگ اس اجلاس میں شریک ہوئے ہیں مجھے یقین ہے کہ وہ بغیر کسی نتیجے کے سے باہر نکلیں گے کیونکہ سعودی عرب، قطر اور ترکی جیسے ممالک "واشنگٹن ـ تل ابیب" کے ایجنڈے کا حصہ بن چکے ہیں اور ممکن ہے کہ یہ ممالک ان ممالک کے ساتھ شدید اختلافات سے دوچار ہوجائیں جو اسرائیل مخالف مزاحمت محاذ کی حمایت کررہے ہیں۔انھوں نے کہا: مزاحمت دشمن محاذ شام کی حکومت کو طاقت کے ذریعے تبدیل کرنا چاہتا ہے؛ مغرب ابتدا ہی سے اس مسئلے کے سلسلے میں غلطیوں کا مرتکب ہوا اور اس نے علاقے کے تمام ممالک نیز فلسطین کو سخت نقصان پہنچایا۔ انھوں نے کہا: جو فریق اس وقت شام میں قتل، خونریزی اور تخریبکاری کی حمایت کررہا ہے وہ صہیونی ریاست ہے۔انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک نیز عرب بادشاہ شام سے اسرائیل دشمنی کا انتقام لے رہے ہیں اور ترکی نے بھی اس مسئلے میں ایسا کردار ادا کیا کہ اس کو کسی صورت میں بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ــ مکہ اجلاس شام کا مسئلہ حل کرنے سے عاجزایک ترک تجزیہ نگار نے مکہ اجلاس میں شام کو دعوت نہ دیئے جانے کے سعودی اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ اجلاس شام کا مسئلہ حل کرنے سے عاجز ہے۔اطلاعات کے مطابق ترک تجزیہ نگار فائق بولوت نے بدھ کے روز العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: شام کا مسئلہ حل کرنے میں اجلاس مکہ کی بے بسی کی وجہ یہ ہے کہ یہ اجلاس اسلامی اور عربی اقوام کی خواہش و اہداف کی بنیاد پر منعقد نہيں ہوا ہے بلکہ اس کا اصل ہدف اجنبی قوتوں کے مقاصد کا حصول ہے؛ چنانچہ اس کے فیصلے بھی فضول اور بے معنی ہیں۔انھوں نے کہا: شام کا بحران، ایران کے خلاف یہودی ریاست کی دھمکیاں اور برما کے مسلمانوں کا قتل عام اس اجلاس کے ایجنڈے کے بنیادی نکتے ہیں لیکن اس اجلاس میں صرف شام کے مسئلے پر بحث کرنے کو ترجیح دی جارہی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ـ بعض مسلم حکمرانوں کے ذریعے ـ فرقہ وارانہ فتنہ انگیزی کا راستہ ہموار کررہی ہیں۔انھوں نے مسلمانان عالم سے اپیل کی کہ اندرونی اختلافات کو بالائے طاق رکھیں اور دشمنوں کی سازشوں سے ہوشیار ہوکر اپنے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔انھوں نے اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل اکمل الدین احسان اوغلو پر شام کے ساتھ دشمنی کا الزام لگایا۔بولوت نے کہا: اگر اسلامی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل شام کے بحران کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو انہیں غیرجانبداری کا ثبوت دیتے ہوئے شام میں مسلح دہشت گرد گروپوں کے مسئلے کی طرف توجہ دینی چاہئے جو تشدد کا راستہ اپنائے ہوئے ہیں۔
..........
/110