ابنا: فلسطین کانام آتےہی، قیدوبند، ظلم وتشدد، جارحیت وجلاوطنی، بےکسی ولاچاری ، جلتی اورسلگتی بستیاں، ویران بازاریں، اجڑےدیار، چیخوں کی پکار، اوراس کےبیچ صیہونی زنجیروں میں جکڑا ہوا بیت المقدس یاد آتاہے۔وہ بیت المقدس جوتمام ادیان الہی بالخصوص مسلمانان عالم کےلئے نہایت احترام کاحامل ہے۔
لیکن افسوس کہ اسےصہیونیوں نےاس طرح اپنےمحاصرےمیں لےرکھاہے کہ ان کی اجازت کےبغیرکوئی اس عبادت گاہ کی زیارت تک نہيں کرسکتا۔ یوں توفلسطین کےاکثرعلاقوں پرصیہونی عاصبوں کاقبضہ ہے اورپورےفلسطین کی آزادی اشدضروری ہے لیکن بیت المقدس پورےمسئلہ فلسطین میں نمایاں اہمیت کاحامل ہے اوراسی اہمیت کےپیش نظرعلماء کرام سمیت عالم اسلام کاہرعام وخاص اس کی آزادی کی تمنا اپنےدل میں لئےبیٹھاہے لیکن مادی دنیامیں عمل کےبغیرکوئی تمناپوری نہیں ہوتی، خواہشات اورتمناؤں کوخواب سےحقیقت میں بدلنےکےلئےجہدمسلسل کی ضرورت ہوتی ہے۔
بیت المقدس کی آزادی مسلمانوں کی دلی تمنا ہےاور اسےپوری کرنےکےلئےجہاں مختلف طریقےہیں وہيں ایک نہایت موثر اورپرامن طریقہ غاصبوں اوران کےحامیں تک اپنی صدائےاحتجاج پہنچانا ہے۔چنانچہ اسی مقصد کےحصول کےلئےبرسوں پہلےمسلمانوں کویہ حکمت عملی اختیارکرنےکی دعوت دیتےہوئے اسلامی انقلاب کےبانی حضرت امام خمینی(رح) نےرمضان المبارک کےآخری جمعےکوجسےجمعۃ الوداع کہاجاتا ہے اورمسلمانوں کی نگاہ میں نہایت مقدس ہے، عالمی یوم قدس منائےجانےکااعلان کیاتھاتاکہ نہ صرف یہ کہ مسئلہ فلسطین بالخصوص بیت القدس کامسئلہ ہمیشہ زندہ رہے بلکہ اس کی آزادی کےلئے کوئی نہ کوئی طریقہ تلاش کرنےکی فکرلاحق رہے اور صیہونی عناصراس مقدس مقام کوتباہ وبرباد نہ کرسکیں گوکہ یہ ان کی دیرینہ خواہش ہے کہ مسجد اقصی تباہ ہوجائےاور اس کانام ونشان مٹ جائےاوراس کےلئےوہ گاہےبہ گاہے کوئی نہ کوئی مذموم حرکت کرتےبھی رہتےہيں حتی اس سلسلےمیں صیہونیوں نےمسجداقصی کےنیچےسرنگیں بھی کھود دیں ہیں اوراس میں آگ بھی لگاچکےہيں ۔ بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کی جانب سے بیت المقدس کی آزادی کےلئےدباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کاپوری دنیاکےمسلمانوں نےپرزور خیرمقدم کیا اوررمضان المبارک کےآخری جمعہ کوپوری دنیا میں یوم قدس منایاجانےلگا۔یوم قدس کےموقع پر ہونےوالےاحتجاجی مظاہروں میں فلسطین بالخصوص بیت المقدس کی آزادی کامطالبہ کیاجاتاہے اورپورا عالم اسلام یہ عہد کرتاہے کہ جب تک مسئلہ فلسطین حل نہيں ہوجائےگا اس وقت تک وہ چین سےنہيں بیٹھیں گے۔اس تناظرمیں عالمی یوم قدس کےمظاہروں کوزیادہ سےزیادہ کامیاب بنانےکےلئےمذہبی اورسیاسی شخصیتوں کی جانب سے بھرپورشرکت کی اپیل کی جاتی ہے۔اس سال بھی سیاستدانوں اورعلماء کرام نے دنیابھرکےحریت پسندانسانوں بالخصوص مسلمانوں سےیوم قدس کےجلوسوں میں شرکت کی اپیل کی ہے۔
مجلس خبرگان یاماہرین کی کونسل کےسربراہ آیت اللہ مھدوی کنی نےعالمی یوم قدس کی مناسبت سے اپنےبیان میں یوم قدس کےجلوسوں میں شرکت کی دعوت دیتےہوئے تاکید کےساتھ کہاہےکہ غاصب صیہونیوں کےچنگل سےبیت المقدس کی رہائی کاواحدراستہ مسلم امۃ کےدرمیان اتحاد ہے۔
مرجع تقلیدآیت اللہ مکارم شیرازی نےاس مناسبت سےکہاہےکہ اسلام کی حفاظت اورقدس کےغاصبوں کےخلاف جدوجہد کی اہمیت کےپیش نظر عالمی یوم قدس کےجلوسوں میں شرکت شرعی لحاظ سےواجب ہے۔
مرجع تقلیدآیت اللہ جعفرسبحانی نے عالمی یوم قدس کی اہمیت وافادیت کی وضاحت کرتےہوئے یوم قدس کی مناسبت سے ہونےوالےمظاہروں میں شرکت کی ضرورت پرتاکیدکرتےہوئےکہاکہ اس سال ان مظاہروں میں شرکت کرکے، غاصب صیہونی حکومت کےخلاف فرنٹ لائن پرلڑنےوالےشام کی حمایت کی جائے۔
فلسطین کے مزاحمتی لیڈراور انتفاضہ فاؤنڈیشن کےسربراہ رمضان شریف نےعالمی یوم قدس کےموقع پرہونےوالےمظاہروں کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتےہوئےکہاکہ اس سال عالمی یوم قدس کےموقع پر دنیا کےسترسےزیادہ اسلامی اورغیراسلامی ممالک میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔
فلسطین کے منتخب وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے عالمی یوم قدس کی اہمیت بیان کرتےہوئے یوم قدس کو مسجد الاقصی اور فلسطین کے ساتھ ملت اسلامیہ کی تجدید بیعت کا دن قرار دیا اور عالمی یوم قدس کو پرشکوہ انداز میں منائے جانے پر تاکید کی ۔ اسماعیل ہنیہ نے کہا کہ عالمی یوم قدس اسلام کی عظیم شخصیات کی قدردانی کا دن ہے ۔ اور ان شخصیات میں بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی رح سرفہرست ہیں کہ جنھوں نے قدس ، مسجد الاقصی اور فلسطین سے متعلق فرائض سے ملت اسلامیہ کو آشنا کرایا۔
.......
/169