13 اگست 2012 - 19:30

فلسطین میں مسلمانوں کے قبلہ اول میں رمضان المبارک کے چوتھے جمعہ المبارک کو کم سےکم ساڑھے تین لاکھ فرزندان توحید نے نماز ادا کی ہے۔ رواں سال کے ماہ صیام کے دوران جمعہ کا یہ سب سے بڑا عوامی اجتماع ہے۔ تیسرے جمعہ کو سوا تین لاکھ جبکہ پہلے اوردوسرے جمعہ کو اڑھائی لاکھ افراد نے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کی تھی۔

ابنا: ذرائع کے مطابق مسجد اقصیٰ کی تعمیر و مرمت کی ذمہ دار تنظیم ‘‘اقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ’’ کی جانب سے نماز جمعہ کے بعد جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سخت ترین گرمی اور اسرائیلی فوج اور پولیس کی جانب سے کھڑی کی گئی ہمہ نوع قسم کی رکاوٹوں کے علی الرغم فلسطینی وفود کی مسجد اقصیٰ آمد کا سلسلہ جمعہ کو علی الصباح ہی شروع ہوگیا تھا۔ دور دراز سے کئی قافلے نماز فجر کے بعد ہی قبلہ اول کی جانب روانہ ہوئے تھے۔ ان میں مقبوضہ مغربی کنارے، بیت المقدس اور شمالی فلسطین سے تعلق رکھنے والے وفود شامل تھے۔

نماز جمعہ کا خطبہ ڈاکٹر الشیخ اسماعیل نواھضہ نے دیا۔ انہوں نے فلسطینیوں کی اتنی کثیر تعداد کے مسجد اقصیٰ میں جمع ہونے کو عالم اسلام کی بیداری اور فلسطینیوں کی آزادی کی نوید قرارد یا۔ انہوں نے کہا کہ میرے سامنے انسانی سروں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر مسجد اقصیٰ کی پنجہ یہود سے آزادی کی علامت اور نوید ہے۔ آج عالم اسلام بیدارہو چکا ہے اور اسرائیل ظالم حکومت کی تمام تر سازشوں اور پابندیوں کے باوجود لاکھوں فرزندان توحید قبلہ اول میں جمع ہوئے ہیں۔

شیخ اسماعیل نواھضہ نے فلسطینی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد اقصیٰ میں اپنی زیادہ سے زیادہ حاضری کو یقینی بنائیں اور مسلم امہ پر زور دیا کہ وہ فلسطینی مظلوموں کی مدد کے لیے ہر محاذ پر اپنا کردار ادا کریں۔

.......

/169