12 اگست 2012 - 19:30

سعودي عرب کے حمايت يافتہ بحريني سيکورٹي اہلکاروں نے جزيرہ سترہ ميں جمہوريت کے حق ميں مظاہرہ کرنے والوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنايا ہے-

ابنا: ہزاروں کي تعداد ميں بحريني شہري  ملک کے شمال مشرقي شہر  سترہ کي سڑکوں پر آئے اور انہوں نے شاہي حکومت کے خاتمے کا مطالبہ دہرايا، مظاہرين اپنے ملک سے سعودي فوجيوں کے فوري اور غير مشروط انخلا کا بھي مطالبہ کر رہے تھے- دارلحکومت مناما ميں بھي ہزاروں لوگوں نے حکومت کے خلاف مظاہروں ميں حصہ ليا، سڑکوں پر ٹائر جلائے اور منامہ کے بين الاقوامي ہوائي اڈے کي جانب جانے والي مرکزي شاہراہ  کو بند کرديا-سعودي عرب کي حمايت يافتہ بحريني شاہي حکومت کي جانب سے عوام کے خلاف جاري کريک ڈاون کے باوجود عوامي مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے اور لوگ ملک ميں جمہوري حکومت کے قيام کا مطالبہ کررہے ہيں-بحريني سيکورٹي اہلکار جن ميں زيادہ تر دوسرے ملکوں سے بھرتي کئے گئے ہيں ، پرامن مظاہرين کے خلاف آنسوگيس، ربر کي گوليوں اور حتي لائيوبلٹ کا آزادانہ استمعال کرر رہے  جسکے نتيجے ميں اب تک سيکڑوں افراد شہيد اور زخمي ہوچکے ہيں، بڑي تعداد ميں حکومت مخالفين کو گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا ہے-ادھر بحرين کي سب سے بڑي اپوزيشن جماعت جميعت الوفاق نے شاہي حکومت کي جانب مذاکرات کي پيشکش کو مسترد کرتے ہوئے اس کو پروپيگنڈا مہم کا حصہ قرار ديا ہے-جميعت الوفاق کے سيکريٹري شيخ علي سلمان نے اپنے ايک بيان ميں کہاہے کہ آل خليفہ حکومت ايک مجرم حکومت ہے اورايسي حکومت سے کسي طور مذاکرات نہيں کئے جائيں گے- انہوں کہا کہ شاہي حکومت مظاہروں کي شدت  اور عالمي دباؤ ميں کمي کرنے کي غرض سے مذاکرات کا  ڈھونگ رچا رہي ہے-

.......

/169