ابنا: بدھ کو سپريم کورٹ کي پانچ رکني بينچ نے اسي سلسلے ميں ہونےوالي سماعت کے دوران راجاپرويز اشرف کو نوٹس جاري کرتے ہوئے انہيں ستائيس اگست کو عدالت ميں طلب کرليا ہے سپريم کورٹ نے اظہار وجوہ کا يہ نوٹس توہين عدالت ايکٹ کے سيکشن سترہ کے تحت جاري کيا ہے اس سے پہلے عدالت نے اپنے ايک فيصلے ميں توہين عدالت سے متعلق پارليمنٹ کے ذريعے منظور کئے گئے قانون کو کالعدم قراردے ديا تھا اس نئے قانون ميں صدر اور وزير اعظم کو توہين عدالت کے معاملے سے مستثني رکھا گيا تھا عدالت نے مذکور قانون کو کالعدم قرارديتے ہوئے کہا تھا کہ يہ قانون آئين سے متصادم ہے اور اس ميں عدالتي اختيار کو کم کرنے کي کوشش کي گئي ہے-سپريم کورٹ نے اٹارني جنرل سے کہا ہے کہ اگر ستائيس اگست سے پہلے اين آر او سے متعلق عدالتي فيصلے پر عمل درآمد کے بارے ميں کوئي قابل ذکر پيش رفت ہوتي ہے عدالت اس پر نرم رخ اختيار کرنے کو تيار ہے بدھ کو سپريم کورٹ کي پانچ رکني بينچ نے اپنے فيصلے ميں کہا کہ عدالت وزير اعظم کو پہلے ہي کافي مہلت دے چکي ہے ليکن افسوس کہ ملک کے چيف ايکزيکٹو کي طرف سے عدالتي فيصلے پر عمل درآمد مين تاخيري حربے استعمال کئے جارہے ہيں عدالت نے ساتئيس جون کو سماعت کے دوران سوئيس حکام کو خط لکھنے کے تعلق سے وزير اعظم راجا پرويز اشرف سے جواب طلب کيا تھا اس دوران عدالت نے بدھ کو اپنے مختصر حکم نامے ميں سابق وزير اعظم يوسف رضاگيلاني کي نا اہلي کا بھي حوالہ ديا ہے اور کہا ہے کہ اسي مقدمے ميں يوسف رضاگيلاني کو عدالتي احکامات کي پيروي نہ کرنے کي بنا پر رکن قومي اسمبلي کي حيثيت سے انہيں نااہل قرارديا گيا تھا جس کي وجہ سے انہيں وزارت عظمي کے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا تھا بدھ کو سماعت کے دوران اٹارني جنرل نے عدالت سے استدعا کي کہ سماعت ستمبر کے پہلے ہفتے تک ملتوي کردي جائے جس پر عدالت نے جواب ديا کہ پہلے ہي دوہفتے کي مہلت دي جاچکي ہے عدالت نے اس موقع پر کہا کہ افسوس کي بات ہےکہ وزير اعظم نہ تو عدالتي احکامات پر عمل کررہے ہيں اور نہ ہي کوئي جواب ان کي طرف سے داخل کيا جارہا ہے اس دوران يہ بھي اطلاعات ہيں کہ حکومت نے توہين عدالت کے نئے قانون کو کالعدم قراردئے جانے کے عدالتي فيصلے کے خلاف نظر ثاني کي اپيل دائر کي ہے درخواست ميں کہا گيا ہے کہ يہ معاملہ بنيادي انساني حقوق کے زمرے ميں نہيں آتا اس لئے عدالت اپنے فيصلے پر نظرثاني کرے -واضح رہے کہ حکومت اور عدالت کے درميان اين آر او پر عمل درامد کا معاملہ طول پکڑتا جارہا ہے اور اس ميں آئيني ماہرين کے درميان بھي اب متضاد رائے بنتي جارہي ہے جہاں کچھ ماہرين کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس عدالتي حکم ماننے کے سوا کوئي راستہ نہيں ہے وہيں عدليہ کي بحالي کي تحريک ميں پيش پيش رہنے والے ممتاز آئيني ماہر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ جو قانون دوتہائي اکثريت سے پارليمنٹ سے پاس کيا گيا ہو اس کو عدالت کي طرف سے چيلنج نہيں کيا جاسکتا انہوں نے اپنے ايک بيان ميں عدالت کے موجودہ موقف پر نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ عدليہ کو آزاد ہونا چـاہئے مگر لگتا ہے کہ موجودہ حالات ميں عدليہ کچھ زيادہ ہي آزاد ہوگئي ہے
.......
/169