ابنا: آيت اللہ احمد جنتي نے تہران کي مرکزي نماز جمعہ کے خطبے ميں شام کے حالات کو خراب کرنے کے تعلق سے مغرب اور علاقے کے بعض ملکوں کي سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ شام کے خلاف صف آرائي کرنے کا دشمنوں کا اصل مقصديہ ہے کہ مزاحمتي قوتوں کے لئے شام کي حمايت کو ختم کيا جائے اور نابودي کي سمت گامزن اسرائيلي حکومت کو نجات دلائي جائے۔آيت اللہ احمد جنتي نے ملکوں کے داخلي معاملات ميں مداخلت کو ايک غير قانوني اور ناقابل قبول روش قرارديا اور کہا کہ امريکا، سعودي عرب ، قطر اور ترکي کو شام کے داخلي معاملات ميں مداخلت اور مخاصمانہ اقدامات فوري طور پر بند کردينے چاہئيں ۔تہران کي مرکزي نماز جمعہ کے خطيب نےملت ايران کے خلاف مغرب کي اقتصادي پابنديوں کے لاحاصل ہونے کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ تيس سال کے تجربات نے يہ ثابت کرديا ہے کہ ايران کے عوام نے کبھي بھي عالمي استکبار کے سامنے سر نہيں جھکايا ہے۔تہران کے خطيب جمعہ آيت اللہ جنتي نے کہا کہ ايران کے خلاف امريکا کي اقتصادي پابندياں درحقيقت سياسي نوعيت کي ہيں انہوں نے کہا کہ امريکا اقتصادي ميدانوں ميں ايران کو کمزور کرکے ايک بار پھر ايران پر اپنا تسلط جمانے کي ناکام کوشش کررہا ہے، بنابريں ايران کے عوام کو چاہئے کہ وہ استکباري طاقتوں کي سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے پوري ہوشياري کا مظاہرہ کريں ۔ تہران کے خطيب جمعہ نے نماز کے خطبوں کے آغاز ميں فرزند رسول سبط اکبر حضرت امام حسن مجتبي عليہ السلام کے يوم ولادت باسعادت کي آمد کي مناسبت سے مبارکباد پيش کی۔
.......
/169