30 جولائی 2012 - 19:30

سعودی عرب کی انٹلجنس کے چیف بندر بن سلطان کو قتل کردیا گیا ہے/ اس خبر کی کہیں سے تائید نہيں ہوئی لیکن بعض دوسری خبروں سے اس کی ضمنی تردید ہوئی اور بعض نے اس خبر کے پس منظر پر روشنی ڈالی/ بندر بن سلطان کی یہودی ریاست کے وزیر جنگ اور موساد کے اہلکاروں سے ملاقات / بعض ذرائع ابھی تک بندر کی ہلاکت کے بارے میں شکوک و شبہات ظاہر کررہے ہیں۔

ابنا: بین الاقوامی خیراتی تنظیم جو ایک نیوز ویب سائیٹ بھی چلاتی ہے  نےلکھا تھا کہ سعودی انٹلیجنس چیف بندر بن سلطان  کودمشق میں اٹھارہ جولائي کو ہونے والے بم دھماکے میں ملوث ہونے کی پاداش میں ہلاک کردیا گیا ہے۔ دمشق میں ہونے والے بم دھماکے میں شام کے چار اعلی سکیورٹی حکام مارے گئے تھے جن میں وزیردفاع بھی شامل تھے ۔ شام اور سعودی ذرائع نے اس خبر کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ شام میں بھیانک دہشتگردانہ بم دھماکے کرنے کےبعد شاہ عبداللہ نے انہیں ترقی دے کر انٹلجنس چیف بنادیا تھا۔ یاد رہے سعودی عرب نہ صرف شام میں بلکہ پاکستان، افغانستان، چیچنیا، یمن، لبنان ، صومالیہ اور دیگر مقامات پر دہشتگردی کو بڑھاوا دے رہا ہے۔بندر بن سلطان کی ہلاکت؛ ایک دعویاس خبر کو سب سے پہلے پیرس کے نیوز ویب بیس "ولٹائر نیٹ ورک" نے شائع کیا اور اس نے ایک غیر سرکاری ذریعے کے حوالے سے اس خبر کی تصدیق بھی کردی۔ولٹائر نیٹ ورک نے لکھا کہ بندر بن سلطان 18 جولائی کو دمشق کے دھماکے میں ملوث ہونے کے باعث مارے گئے ہیں۔ اس خبر کی کہیں سے تائید نہيں ہوئی لیکن بعض دوسری خبروں سے اس کی ضمنی تردید ہوئی اور بعض نے اس خبر کے پس منظر پر روشنی ڈالی۔ ولٹائر نیٹ ورک کی خبر کے پیچھے مغربی اور عرب ممالک محرکات نظر آتے ہیں۔ اس خبر میں بندر کی ہلاکت کو دمشق دھماکے سے نتھی کیا گیا ہے جس میں شام کے وزیر دفاع اور 3 اعلی سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ موساد کے قریبی ذرائع نے البتہ اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ آل سعود کی طرف سے ابھی تک بندر کی ہلاکت کے سلسلے میں کوئی رد عمل سامنے نہيں آیا ہے لیکن امریکہ اور اسرائیل اور مشرق وسطی کے بعض عرب ممالک کافی پریشان ہیں۔دبکا ویب سائٹ نے معمول کی منظرنامہ سازی کے تحت بندر کی ہلاکت کو ایران سے جوڑنے کی کوشش کی اور لکھا کہ سعودی حکام اپنے ملک کے سیکورٹی اداروں میں ایران کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ہل کر رہ گئے ہیں۔  دبکا نے دعوی کیا کہ بعض غیر مصدقہ ذرائع نے کہا ہے کہ بندر کو ایران اور شام نے 18 جولائی کے دھماکے کے بدلے میں ہلاک کردیا ہے اور پھر بندر 23 جولائی کے بعد اب تک منظر عام پر نہيں آئے ہیں اور 23 جولائی کو ریاض کے انٹیلیجنس ادارے میں دھماکہ ہوا جس میں مشعل القرنی بھی ہلاک ہوئے جو بندر کے نائب تھے۔ یاد رہے کہ اس بم دھماکے کی بعد میں تردید ہوئی تھی۔ بندر بن سلطان کی یہودی ریاست کے وزیر جنگ اور موساد کے اہلکاروں سے ملاقاتالمنار نیوز ویب سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ بندر بن سلطان سوئس کے دورے پر ہیں اور انھوں نے اسرائیلی موساد کے اعلی اہلکاروں سے خفیہ ملاقات کی ہے اور یہ ملاقات 29 جولائی کو بروز بدھ انجام پائی ہے جس میں موساد کے اہلکاروں کے علاوہ خلیج فارس کی ساحلی ریاستوں کے بعض شہزادے بھی حاضر تھے۔ اس ملاقات کے وقت متعلقہ ہوٹل میں سوئس سیکورٹی فورسز کی بڑی تعداد تعینات تھی اور ہوٹل میں موبائل فون لے جانے کی اجازت نہيں تھی۔ یہ نشست پانچ گھنٹوں تک جاری رہے جس میں صہیونی وزیر جنگ ایہود بارک اور موساد کے اسپیشل مشنز کے سربراہ نے شرکت کی اور علاقے کے مختلف مسائل زیر بحث آئے۔  

بہر حال بعض ذرائع ابھی تک بندر کی ہلاکت کے بارے میں شکوک و شبہات ظاہر کررہے ہیں اور آل سعود کی طرف سے بھی کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے اور ایک خبر کے مطابق ریاض میں واقعی دھماکہ ہوا تھا جس میں بندر زخمی ہوئے تھے اور ان کے زخموں کا علاج سعودی عرب میں ممکن نہ تھا چنانچہ یہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ انہیں زخمی حالت میں کسی بیرونی ملک میں علاج کے لئے منتقل کیا جاچکا ہو!۔ بہرصورت ابھی تک کوئی ٹھوس خبر موصول نہيں ہوسکی ہے۔ اور اگر واقعے میں کوئی سچائی ہو بھی تو خون میں ڈوبے ہوئے ہاتھوں کا اپنے خون میں رنگ جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔

......./169 _ 110بندر بن سلطان کون ہیں، ان کی نئی ڈیوٹی کیا ہے؟ اپ ڈیٹس