28 جولائی 2012 - 19:30

ہاتھ میں خور و نوش کا کچھ سامان اور روٹی کا ڈبہ لیے کیمپ جیل کے باہر کھڑی یہ مستور اتنی ہی پریشان لگ رہی تھی جیسے چڑیا گھر میں نیا آنے والا جانور۔ میں چونکہ ’’عادی ملاقاتی ‘‘ تھا اس لیے “فکر ناٹ” والی کیفیت تھی۔

ابنا: ہاتھ میں خور و نوش کا کچھ سامان اور روٹی کا ڈبہ لیے کیمپ جیل کے باہر کھڑی یہ مستور اتنی ہی پریشان لگ رہی تھی جیسے چڑیا گھر میں نیا آنے والا جانور۔ میں چونکہ ’’عادی ملاقاتی ‘‘ تھا اس لیے “فکر ناٹ” والی کیفیت تھی۔ بدھ کا دن صرف اسیران امامیہ کی ملاقات کے لیے مخصوص تھا ۔ میں ہر بدھ آفس سے شارٹ بریک لیتا اور کھانے پینے ک چیزیں لے جیل پہنچ جاتا۔ یہ میرا پسندیدہ ترین مشغلہ تھا۔ملاقاتی آئے تو میں یہ جان کر حیران رہ گیا کہ یہ شریف زادی مولانا غلام حسیننجفی شہید کی بیٹی تھی۔ نجفی صاحب کی تین بیٹیاں تھیں جو ملاقات پر آتی اور کھانا پہنچاتی تھیں جبکہ نجفی صاحب عالم دین ، مصنف، مناظر اور جامعۃ المنتظر کے وائس پرنسپل بھی تھے ۔ان کا جرم سپاہ صحابہ کی کتابوں کے جواب لکھنا تھا۔نجفی صاحب کی گرفتاری شہباز شریف کے خصوصی حکم پر عمل میں آئی تھی اور اس کے لیے جامعۃ المنتظر پر باقاعدہ پولیس ریڈ کیا گیا تھا۔ وزیراعلیٰ (جنہوں نے اس وقت خادم اعلیٰ کا لقب اختیار نہیں کیا تھا) کا بیان آن دی ریکارڈ ہے کہ ’’غلام حسین نجفی اور ملک اسحاق کو کسی صورت رہا نہیں کریں گی‘‘ ملک اسحاق کو تو خادم اعلیٰ صاحب نے نہ صرف ’’آزاد عدلیہ‘ کے ذریعے رہا کروایا بلکہ سرکاری پروٹوکول میں فرقہ واریت پھیلانے کی مکمل آزادی دی۔ایک طرف لاہور میں دہشت گرد تیار کئے جاتے اور کراچی سے کوئٹہ تک ایکسپورٹ کئے جاتے ہیں ۔ جبکہ غلام حسین نجفی صاحب کو اس مظلومیت سے شہید کیا گیا کہ باپ بیٹی دونوں کو گولی لگی۔ زخمی بیٹی زخمی باپ کو زندہ لیکر ہسپتال پہنچ گئی۔ مگر نہیں معلوم کہ خادم اعلیٰ کا خوف تھا یا دہشت گردوں کا ۔ انتظامیہ نے علاج سے انکار کردیا۔مجھے مولانا غلام رضا نقوی کا بھانجا محمد علی بھی نہیں بھولتا نہ اسکی آنکھوں کے آنسو۔ میں نے پوچھا ’’کیوں جیل سے گھبرا گئے۔ کہنے لگا نہیں جیل سے نہیں گھبرایا ۔ روتا اس لیے ہوں کہ میری بیٹیوں کو کوئی دودھ کے لیے بھی پیسے نہیں دے گا۔ سچ کہتا تھا ۔ چودہ برس ہوگئے اس غریب سید کو زندان میں۔ بیٹیاں کم سن تھیں تو دودھ کو ترستی رہیں ۔ کچھ بڑی ہوئیں تو سکول کو اب شادی کی عمر ہے تو جہیز کو تر سیں گی۔خود رضا نقوی صاحب 16سال سے پس زندان ہیں فالج زدہ بدن بیڑیوں میں جکڑا ہے ’’آزاد عدلیہ ‘‘ ان کا کیس سننے کو بھی تیارنہیں۔ساقی شاہ اور لیاقت جعفری کو 1992میں جھنگ کے ایک مقدمہ میں بے گناہ ملوث کیا گیا۔ جبکہ ساقی شاہ کی عمر صرف 17سال تھی ۔ دنیاکی کوئی عدالت نابالغ کو سزائے موت نہیںدیتی ۔لیکن ان دونوں بے گناہوں کو موت کی سزا سنائی گئی ۔20سال سے پس زندان ہیں ۔ حال ہی میں جناب افتخار چوہدری کی عدالت میں اپیل کی گئی جو بڑی ’’خوبصورت دلیل‘‘  کے ساتھ مسترد کردی گئی کہ  ’’ہماری عدالت‘‘ فرقہ ورانہ کیس میں کسی کو بھی بری نہیں کرتی ۔جبکہ عدالت کے مقدس نام پرہی ’’چوہدری کورٹ‘‘ 100۔   100افراد کے قاتل بدترین دہشت گردوں کو نہ صرف رہا کرتی ہے بلکہ حکومت کو ان کے اہل خانہ کی کفالت کا حکم بھی صادر کرتی ہی۔ اسی طرح لال مسجد آپریشن میں مارے جانیوالے افراد کے اہل خانہ کو معاوضہ دلانے کا حکم بھی مرکزی حکومت کو صادر کرتی ہے اور انکار پر ’’توہین عدالت‘‘ کی دھمکی دیتی ہی۔1990سے اب تک تقریبا پندرہ ہزار 15000مومنین کو شہید کیا گیا۔ کسی ایک قاتل کو سزا نہیں دی گئی۔ وہ کونسی قوت ہے جو ان قاتلوں کو عدالتوں سے آزاد کرواتی ہے اور جیلوں سے بھگا لے جاتی ہی۔گزشتہ 22سال میں فرقہ ورانہ کیسوں میں صر ف دو افراد کو تختہ دار پر لٹکایا گیااور دونوں کا تعلق شیعہ مسلک سے ہی۔ شہید شہزاد علی اور شہید محرم علی۔محرم علی گرفتار ہوا ۔ رہبران ملت نے میڈیا میں آکر ’’اطمینان کا اظہار‘‘ فرمایا۔ جنہیں یاد ہو ۔پھانسی پر جھولنے سے پہلے یہ غازی کن کے بارے میں کہہ گیا تھا’’وہ غدار ملت ہیں ۔ میرے جنازے میں شریک مت ہوں ‘‘آج پاکستان کا ہر شیعہ مذہبی اسیر اپنے ورثا کے خانہ میں ایک لفظ لکھتا ہے ’’لاوارث‘‘۔ یہ لفظ ایک طمانچہ ہے رہبران قوم اور پوری شیعہ ملت کے لیےآپ پاکستان بھر کے نادار شہدا اور اسیران کا ڈیٹا جمع کریں ۔ یہ تعداد 5000سے زیادہ نہیں بنتی۔شرم سے ڈوب مرنے کا مقام نہیں؟ پانچ کروڑ کی ملت اور 5000شہیدوں اور زندہ شہیدوں (اسیران) کی کفالت نہ کرسکی۔کیا ہم ان ہستیوں کے پیروکار ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے جو خود بھوکے ہوتے تھے اور اپنے حصہ کا کھانا مسکین ،یتیم اور اسیر کو دے دیتے تھی۔ ۔ کیاہماری ذات میں سیرت اہلبیت کی کوئی جھلک دکھائی دیتی ہی۔؟رہبران ملت کا دعویٰ سر آنکھوں پر کہ لوگ ان کے کہنے پر ووٹ دیتے ہیں ۔ مگر کیا قوم بھی یہ پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ شہدا کے گھروں کی کفالت کس کی ذمہ داری ہی۔اسیروں کے خانوادوں کی مدد اور مقدمات کی پیروی کس کا کام ہی۔رہبران  قوم کا طرز زندگی دیکھتا ہوں تو سر فخر سے بلند ہوجاتا ہے ۔ انواع و اقسام کے کھانی، بہترین لباس،پجیرو گاڑیاں، عالیشان مکانات۔ کیڈٹ کالجز اور روٹس سکولز میں پڑھتے بچی۔ رب اپنے فضل میں مزید اضافہ کرےشہداکے   اسیران ملت کے گھروں سے العطش  العطش  الجوع  الجوع کی صدائیں گونج رہی ہیں۔آفرین  کہ ہم نے کان ہی بند کرلیے ہیں ۔ 50ملین آبادی کی اس ملت میں کیا 5ہزار پیروکاران عباس علمدار نہیں جو مشکیں اٹھائیں اور ملت کے ان محسنوں کے خانوادوں کی کفالت کا بیڑا اٹھا سکیں۔تحریر:احسن عباس

.....

/169