26 جولائی 2012 - 19:30

ہندوستان کي شمال مشرقي رياست آسام ميں فرقہ وارانہ فسادات ساتويں دن بھي جاري رہا۔

ابنا: خبروں کے مطابق متاثرہ علاقوں سے آٹھ مزيد لاشيں ملنے سے ، ہلاکتوں کي تعداد چاليس ہو گئ ہے جبکہ فوج  اور نيم فوجي دستوں نے ديہي علاقوں تک پہنچ  کر تلاشي مہم شروع کر دي ہے۔ فسادات سے سب سے زيادہ متاثرہ کھوکھراجھار ضلع  ميں کرفيو نافذ ہے اور ديکھتے ہي گولي مار دينے کےاحکامات جاري کئے گئے ہيں۔ہندوستان کے وزير اعظم من مموہن سنگھ نے فسادات  پر قابو پانے کے سخت احکامات صادر کئے ہيں۔ سات دنوں سے جاري تشدد ميں دو لاکھ لوگ بے گھر ہوگئے اور ان سب کے گھروں کو جلا ديا گيا۔علاقے ميں فوج مسلسل فليگ مارچ کررہي ہے تشدد سے  ريلوے نظام بھي متاثر ہوا ہے جس کي وجہ سے تيس ہزار مسافر مختلف اسٹيشنوں اور ٹرينوں ميں پھنسے ہوئے ہيں۔علاقے کے باشندوں نے رياستي حکومت پر الزام لگايا ہے کہ وہ فسادات کو قابو کرنے ناکام رہي ہے۔ مقامي باشندوں کا کہنا ہےکہ اگر رياستي حکومت سنجيدگي سے حالات کو قابو کرنے کي کوشش ہوتي تو صورتحال اتني زيادہ خراب نہ ہوتي۔ حزب اختلاف کي جماعت بھارتيہ جنتا پارٹي نے مرکزي حکومت پر بھي اسي طرح کا الزام لگايا ہے۔

.......

/169