ابنا: علی الدباغ نے آج المیادی ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ عرب لیگ کو شام کے عوام کی جگہ فیصلہ کرنے کا کوئي حق حاصل نہیں ہے، کہا کہ عراقی حکومت شام کے صدر بشار اسد کے اقتدار سے ہٹائے جانے پر مبنی عرب لیگ کی تجویز کی مخالف ہے کیونکہ یہ ایک تقدیر ساز فیصلہ ہے اور اس کا تعلق صرف شام کے عوام سے ہے۔عراقی حکومت کے ترجمان نے شام میں فوجی مداخلت کے منفی نتائج کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ شام میں جنگ کے اثرات اس کے ہمسایہ دوسرے ممالک تک بھی پھیلیں گے۔دریں اثناء اقوام متحدہ کے ایک عہدیدار پاولو پنیرو نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ شام کی حکومت کے مخالفین اور بعض ویب سائٹوں کی جانب سے شام میں مارے جانے والے افراد کے اعداد و شمار غلط ہیں، کہا کہ شام کے خلاف تشہیراتی جنگ جاری ہے۔
.......
/169