20 جولائی 2012 - 19:30

شام کے دارالحکومت دمشق ميں فوج اور غير ملکي حمايت يافتہ دہشتگردوں کے درميان لڑائي جاري ہے اور شامي فوج نے دمشق کے نواحي علاقے سيدہ زينب کا کنٹرول حاصل کرليا ہے-

ابنا: دوسري جانب اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل نے شام ميں بين الاقوامي مبصرين کي تعيناتي کي مدت ميں توسيع کي منظوري دے دي ہےـسرکاري ٹيلي ويژن کے مطابق شامي فوج نے دہشتگردوں کے خلاف کاروائياں جاري رکھتے ہوئے کئي علاقوں کا کنٹرول حاصل کرليا ہے-رپورٹ ميں کہا گيا ہے شامي فوج نے دمشق کے نواحي علاقے سيدہ زينب کو دہشتگردوں کے قبضے سے آزاد کراليا ہے- اس سے قبل شامي فوجيوں نے ايک کاروائي کے دوران الميدان نامي علاقے ميں دہشتگردوں کے کنٹرول روم  کو تباہ کرديا تھا-فوج کا کہنا ہے اس نے تدامون، قادمون اور برزہ سے جيسے نواحي علاقوں کو بھي دہشتگردوں کے پوري طرح پاک کرديا ہے-شامي فوجي نے يہ کاروائي بدھ کے روز نيشنل انٹيلي جينس ہيڈکوارٹر پر ہونے والے دہشتگردانہ حملے کے بعد کي ہے جس ميں ملک کے وزير دفاع سميت متعدد اعلي سول اور فوجي عہديدار مارے گئے تھے-ادھر اقوام متحدہ کي سلامتي کونسل نے برطانيہ کي جانب سے پيش کردہ مسودہ  قرارداد کو منظور کر ليا جس ميں شام ميں عالمي مبصرين کے مشن کي مدت ميں ايک مہينے کي توسيع کي درخواست کي گئي تھي ـمذکورہ قرارداد روس کي منشاء کے مطابق مسودے ميں  تبديليوں کے بعد ہي منظور ہو سکي ـ سلامتي کونسل ميں روس کے نمائندے نے پہلے ہي اعلان کر ديا تھا کہ اگر اس قرارداد ميں روس کي مرضي کے مطابق تبديلياں نہ کي گئيں تو روس اسے ويٹو کر دے گاـدرايں اثنا روس کے صدر ولاديمير پوتين نے  کہا کہ شام کے سلسلے ميں سلامتي کونسل کے دائرے سے نکل کر مغربي ممالک کا کوئي بھي کارروائي کرنے کا فيصلہ بےسود ہوگا  اور اس سے اقوام متحدہ کي ساکھ خراب ہوگي ـروسي صدر کے ترجمان ڈيمٹري پيسکوف نے کہا کہ صدر ولادي ميرپوتن نے شام ميں جاري بد امني کے واقعات کو روس کے موقف سے جوڑنے کي بعض مغربي ممالک کي کوششوں کو مسترد کرديا ہے

.......

/169