20 جولائی 2012 - 19:30

آل سعود حکومت کي تشدد آميزپاليسيوں اور اقدامات کے باوجود سعودي عرب کے مشرقي علاقوں ميں حکومت مخالف مظاہرے جاري ہيں.

ابنا: مشرقي علاقوں کے سعودي باشندوں نے جمعہ اور سنيچر کي درمياني رات القطيف ميں حکومت مخالف مظاہرے کرکے آل سعود حکومت کي برطرفي کا مطالبہ کيا –مظاہرين نے حکومت مخالف نعرے لگا کر مذہبي رہنما شيخ نمر باقر النمر سے اپني يکجہتي کا اظہار کيا-مظاہرين نے حکومت سے مطالبہ کيا کہ وہ شيخ نمر کو فوري طور پر رہا کرے - مظاہرين نے اسي طرح بحريني عوام سے بھي اپني حمايت کا اعلان کيا اور کہا کہ بحرين اور سعودي عرب کے عوام بھائي بھائي ہيں -واضح رہے کہ آٹھ جولائي کو ممتاز شيعہ عالم دين شيخ نمر پر سعودي سيکورٹي اہلکاروں کے قاتلانہ حملے اور پھر ان کو زخمي حالت ميں گرفتار کرلئے جانے کے بعد مشرقي علاقوں ميں خاص طور پر زبردست احتجاجي مظاہرے ہوئے تھے-سعودي سيکورٹي اہلکاروں نے آيت اللہ نمر کي گرفتاري کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں پر فائرنگ کردي تھي جس ميں  تين  افراد شہيد ہوگئے تھے-اس واقعے کے بعد احتجاجي مظاہروں کا دائرہ مشرقي علاقوں سے مدينہ منورہ اور رياض تک دوبارہ پھيل گيا ہے  -سعودي عرب کے عوام گذشتہ ڈيڑھ سال سے ملک ميں سياسي اور اقتصادي اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہيں سعودي عوام کا مطالبہ ہے کہ ملک سے غربت و بے روزگاري کا خاتمہ کيا جائے اور سياسي قيديوں کو فوري طور پر رہا کيا جائے -اس وقت سعودي عرب کي جيلوں ميں تيس ہزار سياسي قيدي اپني زندگي کے دن گزار رہے ہيں جن ميں بيشتر ايسے ہيں جن پر کسي بھي طرح کا کوئي مقدمہ نہيں چلايا گيا ہے-

.......

/169