17 جولائی 2012 - 19:30

سعودي عرب ميں غربت و بے روزگاري کا بحران بھي آل سعودي خاندان کے لئے ايک بڑا چيلنج بنتا جارہا ہے –

ابنا: خود سعودي عرب کے اقتصادي ماہرين کا کہناہے کہ ايک طرف جہاں سعودي شہزادے مغربي ملکوں ميں عيش و عشرت کي زندگي بسر کرنے کے لئے اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں  وہيں سعودي عرب کے اندر بے روزگاري اور غربت،  عام لوگوں کي زندگي کو اجيرن بنارہي ہےسعودي عرب کے مختلف علاقوں ميں حکومت مخالف مظاہروں ميں شدت کے بعد ايک سعودي اخبار نے غربت، بے روزگاري اور کرپشن کو حکومت کے درپيش اہم چيلينج قرار ديا ہےروزنامہ عکاظ نے اپي تازہ اشاعت ميں ملک کي سياسي، اقتصادي اور سيکورٹي مشکلات کا جائزہ ليتے ہوئے لکھا ہے سعودي عرب اگرچہ دنيا ميں تيل پيدا اور ايکسپورٹ کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے ليکن ملک کي ساٹھ في صد آبادي غربت کي لکير سے نيچے زندگي گزار رہي ہے-  روزنامہ عکاظ کے کالم نگار خالد الحربي لکھتے ہيں کہ سعودي عرب کي صرف تيل سے حاصلہ آمدني سالانہ چار سو ارب ڈالر  ہے ليکن ايک سعودي شہري کي  اوسط ماہانہ آمدني چار سو ڈالر سے بھي کم ہے- سعودي عرب ميں غربت اور بے روزگاري کي شرح ميں ايک ايسے  وقت ميں اضافہ ہورہا ہے جب اس ملک کے لوگوں کا خيال ہے کہ ہزاروں کي تعداد ميں موجود شہزادوں نے اپنے لئے قومي دولت کو لوٹ  کرملک اندر اور باہر زندگي کي بہترين سہولتيں اور آسائشيں فراہم کررکھي ہيں- سعودي عرب  بھي آل سعود خاندان کي سياسي اور اقتصادي کارکردگي پر نکتہ چيني کرتے ہيں اور قومي دولت کي لوٹ مار اور  مغرب سے اسلحہ کي خريداري کے بھاري اخراجات کو ملک ميں اقتصادي جمود اور غربت و بے روزگاري کي سب سے بڑي وجہ قرار ديتے ہيں-مغربي ذرائع کے مطابق سن دوہزار دس ميں سعودي عرب نے امريکہ سے ساٹھ ارب ڈالر کا اسلحہ خريدا ہے- اسلحہ کي خريداري کے اس سودے کو امريکي تاريخ کا سب سے بڑا سودا قرار ديا جارہا ہے- دوسري جانب ايک اور عرب صحافي عبدالعزيز الخميس نے بي بي سي کو انٹرويو ديتے ہوئے کہا ہے کہ سعودي حکام  بے روزگاري  شرح کے بارے ميں متضاد بيانات ديتے چلے آئے ہيں، انہوں نے کہا کہ ملک کے غيرجانبدار اقتصادي ماہرين کے مطابق بے روزگاري کي شرح چھتيس في صد سے بھي زيادہ ہے- سعودي عرب کے وزير محنت عادل فقيہ نے حال ہي ميں بے روزگاري کے بحران کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا ملک کي چار ملين افرادي قوت ميں سے دو ملين يعني بيس لاکھ افراد بے روزگار ہيں-ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ تيل کي بھرپور آمدني کے باوجود اس ملک کے زيادہ تر لوگ غربت اور فقر ميں زندگي گزار رہے ہيں اور بے روزگاري کي شرح بھي بہت زيادہ ہے جس کا اعتراف خود حکمرانوں کو بھي  ہے-خود سعودي ذرائع کا کہنا ہے کہ يہ سمجھنا بہت بڑي غلطي ہے  کہ ملک کي اکثريت کے پاس  رہنے کو گھر اور استعمال کے لئے خود کي گاڑي موجود ہے کيونکہ ملک کے  زيادہ تر شہريوں کے پاس گھر نہيں اور اسکے مقابلے ميں ملک کے شہزادوں نے، جنہيں ملک کي تمام زمينوں اور سرکاري اداروں پر تسلط حاصل ہے ، عوام  کي دولت کے لاکھوں ارب ڈالر مغربي بينکوں ميں جمع کرا رکھے ہيں اور اسکا فائدہ بھي مغربي ملکوں کو ہي  پہنچ رہا ہے-

.......

/169