ابنا: مظاہرین نے وزیر اعظم کے دفتر کے سامنے نیتنیاہو کے خلاف نعرے لگائے اور ان کی پالیسیوں کی مذمت کی ۔مظاہرین میں سے ایک شخص نے نیتنیا ہو کے خلاف اعتراض کرتے ہوئے خود سوزی کرلی ہے اطلاعات کے مطابق اس کی حالت نازک بتائی جاتی ہے ۔ اسرائیل کی سیکورٹی فورسز نے مظاہرین پر حملہ کرکے بہت سے لوگوں کو گرفتار اور زخمی کردیا ہے ۔سماجی مسائل کے فعال شیئر نوساتسکی جو خود بھی مظاہرے میں شامل تھے رشیاٹوڈے کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی تحریک اور مظاہرے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک بنیادی طور پر تبدیلی نہیں آجاتی ہے اور لوگوں کے اقتصادی حالات بہتر نہیں ہوجاتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ معیشت کی بگڑی ہوئی صورت حال کو بہتر بنانے کا فیصلہ نیتنیاہو کی کابینہ کا ایک نمائشی فیصلہ ہے ۔ اسرائیل کے مختلف علاقوں میں بھی فلسطینیوں نے غاصب صیہونی حکومت کے خلاف مظاہرے کئے ہیں اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کی مذمت کی ہے ۔ مقبوضہ فلسطین میں ایسے وقت مظاہرے ہورہے ہیں کہ صیہونی ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں کی بجلی قطع ہے اور لوگ حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں ۔ مقبوضہ فلسطین میں گذشتہ برس سے معیشتی اور اقتصادی بحران اور مشکلات کی وجہ سےجو مظاہرے شروع ہوئے تھےوہ اب تک جاری ہیں جس نے صیہونی حکومت کو مختلف اقتصادی مشکلات سے دوچار کردیا ہے ۔ صیہونی اخبار گلوبز نے اسرائیل کے اعداد وشمار کے ادارے کے حوالہ سے لکھا ہے کہ سن دوہزار بارہ میں اسرائیل کے تجارتی لین دین میں گذشتہ برس کے مقابلے میں پینتالیس فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ اسرائیل میں اقتصادی صورت حال کے بارے میں ہونے والے سروے سے پتہ چلتاہے کہ اسرائیل کی اقتصادی صورت حال بہتر ہونے کے بجائے خراب اور بد تر ہوتی جارہی ہے ۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق مقبوضہ فلسطین میں بے روزگاری روز بروز بڑھتی جارہی ہے ۔ اسرائیل کو اس وقت داخلی سطح پر سیاسی بحران کا بھی سامنا ہے ۔صیہونی حکومت کی کادیما پارٹی کے سربراہ شائول مفاز نے خبردار کیاہے کہ ارتھوڈرکس یہودیوں کے لئے اجباری فوجی خدمت کے بارے میں پایا جانے والے اختلاف کی وجہ سے وہ نیتنیاہو کی کابینہ کو چھوڑ رہے ہیں ۔ اسی طرح صیہونی حکومت کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ کے مالی بدعنوانی کے الزام سے بری ہو نے کی وجہ سے بھی بنیامین نیتنیاہو کو کافی تشوش لاحق ہے کیونکہ ایہود اولمرٹ کے قریبی لوگوں کے مطابق وہ دوبارہ پھر سیاسی میدان میں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ صیہونی حکومت کے سابق وزیر اعظم نے سن دوہزہار چھہ میں 33 روزہ اسرائیل لبنان جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کی کمزوری کے بارے میں اعتراف کرتے ہوئے کہا ہےکہ اگر حزب اللہ لبنان کے ساتھ ایک اور جنگ چھڑ گئی تو یہ جنگ اسرائیل کے شہروں تک پھیل جائے گی۔ صیہونی کواس وقت علاقائی ملکوں منجملہ مصر کے انقلاب سے بہت زیادہ تشویش لاحق ہے ۔اس لئے کہ علاقے کے مختلف ممالک کے انقلابی افراد صیہونی حکومت سے تعلقات منقطع کرنا چاہتے ہیں ۔اس سلسلے میں اسرائیل کے وزیر صنعت وتجارت بنیامین الیعازر نے مصر میں اسلام پسندوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو دیکھکر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اس تشویش کے نیتجہ میں اسرائیل نے اسرائیل اور مصر کی سرحدوں پر گنبد آہنین کے نام سے موسوم اینٹی میزائیل سسٹم نصب کردئیے ہیں ۔مقبوضہ فلسطین اسی طرح علاقائی اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے مظاہروں نے اسرائیل کو مشکلات سے دوچار کردیا ہے ۔......./169
14 جولائی 2012 - 19:30
News ID: 329300
مقبوضہ فلسطین میں ہزاروں افراد نے معیشت ،مہنگائی اور اقتصادی بحران کے خلاف مظاہرہ کیا ہے.دس ہزار سے زیادہ صیہونیوں نے تل ابیب سمیت مختلف شہروں بیت المقدس اورحیفا میں مظاہرے کئے ہیں اور لوگوں نے سماجی انصاف کے فقدان اور اقتصادی بحران کے خلاف اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو کی کابینہ کے خلاف نعرے لگائے اور ان سے استعفی کامطالبہ کیا ہے ۔