3 جولائی 2012 - 19:30

روس نے آئندہ جمعے کے دن پیرس میں یورپ کے زیر اہتمام شام کے دوستوں کے نام سے منعقد ہونے والے بین الاقوامی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ابنا: روسی وزیر خارجہ سرگئي لاوروف نے کہا ہے کہ جنیوا کے بین الاقوامی اجلاس کے بعد پیرس اجلاس کی کوئي ضرورت نہیں ہے۔ جنیوا جلاس میں ایکشن گروپ کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی ۔ اس اجلاس کا مقصد شام کے بحران کے حل اور اس ملک میں تشدد کے خاتمے کا جائزہ لینا تھا۔ اس اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گيا کہ شام میں اقتدار کی منتقلی تدریجا اور پرامن طریقے سے انجام پانی چاہۓ۔ روس اور چین جنیوا اجلاس سے قبل تک شام میں حکومت کی تبدیلی اور اقتدار کی منتقلی کا موضوع اس ملک میں قیام امن سے متعلق تجویزوں میں شامل کۓ جانے کے مخالف تھے۔ روس اور چين نے شام میں یمن کی طرح اقتدار ایک عبوری حکومت کے سپرد کۓ جانے کی مخالفت کی لیکن بعد میں ان دونوں ممالک کے موقف میں تبدیلی آگئي۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس تبدیلی کی وجہ نیٹو کا یہ اعلان تھا کہ وہ شام میں فوجی مداخلت کا کوئي ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ مطلب یہ کہ روس اور چین نے نیٹو کی جانب سے یہ یقین حاصل ہوجانےکے بعد کہ شام میں لیبیا کے سناریو کو دہرایا نہیں جائے گا اپنے موقف کو بدل لیا۔ یورپ والوں نے بھی جنیوا اجلاس میں طے پانے والے سمجھوتوں سے فائدہ اٹھانے کے لۓ شام کے دوستوں کے نام سے پیرس میں کانفرنس بلانے کا فیصلہ کرلیا۔ فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند کی دعوت پر عالمی تنظیموں اور دنیا کے پچاس ممالک کے نمائندے پیرس میں اکٹھے ہوں گے جو شام میں اقتدار کی منتقلی کے بارے میں مذاکرات کریں گے۔ یورپی حکومتیں جنیوا اجلاس میں روس اور چین کو شام میں اقتدار کی منتقلی کے عمل سے بشار اسد کے الگ کۓ جانے پر راضی نہیں کرسکی تھیں۔ اب وہ ایک اور بین الاقوامی کانفرنس کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان حالات میں روس کی سفارتکاری یورپ والوں کے منصوبے کو ناکام بنانےکے لۓ سرگرم عمل ہوگئي ہے۔ ماسکو نے ایک جانب اعلان کیا ہےکہ وہ پیرس اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا ۔ شام کے بحران کے حل سے متعلق ایک اہم فریق یعنی روس کی عدم شرکت کی وجہ سے پیرس میں حاصل ہونے والا ہر اتفاق رائے غیر معتبر ہو کر رہ جائے گا اور عملی طور پر اس پر عملدرآمد کی کوئي ضمانت نہیں ہوگی۔ روس کے وزیر خارجہ نے صراحت کے ساتھ شام سے متعلق یورپی حکومتوں کے مذاکرات کے مقاصد کے سلسلے میں شکوک کا اظہار کیا ہے۔ سرگئي لاوروف نے کہا ہے کہ اب تک شام کے دوستوں کے نام سے جتنے بھی اجلاس ہوئے ہیں ان کا مقصد لڑائی اور چپقلش کو ہوا دینا رہا ہے۔ کرملین یورپ کے اہداف کو ناکام بنانے کے لۓ بشار اسد کے مخالف شامی گروہوں کے ساتھ مشاورت کے سلسلے میں بھی سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ بشار اسد کے مخالفین عنقریب مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اکٹھے ہوں گے اور ملک میں اقتدار کی منتقلی کا روڈ میپ تیار کریں گے۔ سرگئي لاوروف کے مطابق انھوں نے مصر میں تعینات روس کے سفیر سے کہا ہےکہ وہ مطلوبہ روڈ میپ کی تیاری کے سلسلے میں بشار اسد کے مخالفین کو اکٹھا کرنے کے لۓ سرگرم کردارادا کریں۔ اگلے ہفتے ماسکو میں بشار اسد کے مخالف شام کے گروہوں کا اجلاس ہوگا۔روس اپنے ان اقدامات کے ذریعے شام کے بحران سے متعلق یورپ کے موثر کردار کو ختم کرنے کے لۓ کوشاں ہے۔ چین و روس اور یورپ کے درمیان ہونے والے مقابلے کے باعث شام شطرنج کی بساط کی شکل اختیار کر گيا ہے جس میں کسی ایک فریق کی جانب سے چلی جانے والی چال کو دوسرا فریق ناکام بنا دیتا ہے۔....... /169