ابنا:مغرب اور اس کے علاقائي اتحاديوں کے حمايت يافتہ مسلح دہشتگردوں نے گزشتہ ہفتے دمشق کے نواحي علاقے ميں واقع الاخباريہ ٹي وي چينل کي عمارت پر حملہ کيا تھا اور اب شامي ذرائع ابلاغ نے ملک کے جنوبي ، مشرقي اور شمالي علاقوں ميں ريڈيو اور ٹي وي سينٹروں پر دہشگردوں کے منظم اور منصوبہ بند حملوں کي خبري دي ہے۔ شام کے ٹي وي کے مطابق ملک کے مشرق ميں ديرالزور، جنوب ميں درعا اور شمال ميں حماء شہر ميں واقع ريڈيو اور ٹيلي ويژن کي عمارتوں پر،گزشتہ چوبيس گھنٹے کے دوارن دہشتگردوں نے کئي حملے کئے جس ميں متعدد افراد زخمي ہوئے ہيں اور مواصلاتي ذرائع کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔تازہ ترين خبروں ميں کہا گيا ہے کہ دہشتگردوں نے شام کے مختلف شہروں ميں کئي اور مقامات پر بھي بھرپور حملے کئے ہيں جن ميں شمالي شہر الجميلہ کا کمشنر ہاوس بھي شامل ہے - رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ تيل پيدا کرنے والے علاقے القوريہ ميں فوج اور دہشتگردوں کے درميان شديد لڑائي ہوئي ہے۔بدھ کے روز دمشق کے نواحي علاقے ريف ميں الاخباريہ ٹي وي چينل کي عمارت پردہشتگردوں کے حملے ميں سات افراد ہلاک اور درجنوں زخمي ہوگئے تھے۔شام اور فوجي کے ساتھ براہ راست مقابلے ميں ناکامي اور ملک کے بنيادي ڈھانچے کو تباہ کرنے ميں ناکامي کے بعد اب دہشتگردوں نے ملک کے اليکٹرونک ميڈيا کو نشانہ بنايا شروع کرديا ہے تاکہ زميني حقائق کو چھپا کر صدر بشار اسد کي حکومت کو کمزور کيا جاسکے۔ شام کے عوام اورحکومت نے باہمي تعاون کے ذريعے دہشتگردوں کي اب تک کي کوششيں ناکام بنائي ہیں۔درحقيقت اليکٹرونک ميڈيا کے اداروں پر بھرپور اور منظم حملے، جن پر جمہوريت کے دعويدار ملکوں اور آزادي صحافت کے عالمي اداروں نے معني خيز خاموشي اختيار کر رکھي ہے، نہ صرف آزادي صحافت پر حملہ ہے بلکہ حقائق کے بيان ميں خلل ڈالنے اور شام کي مظلوميت کي آواز کو دنيا والوں کے کانوں تک پہنچنے سے روک کر، معاملے کو صاف کرنے کي مذموم کوشش ہے۔البتہ گزشتہ ڈيڑھ برس سے کے تجربے سے يہ بات پوري طرح ثابت ہوجاتي ہے کہ شام ميں سرگرم مسلح دہشتگردوں کے حامي مغربي حکومتيں اور ترکي ، سعودي عرب، اور قطر جيسے ان کے علاقائي اتحادي شام کے بنيادي ڈھانچے کو تباہ کرنے کي کاروائيوں کے ذريعے ، عوام کي حقيق آواز کو خاموش اور شرپسندوں کي دي جانے والي امداد اور اپنے مداخلت پسندانہ اقدامات کو انساني ہمدردي کا نام ديکر عالمي رائے عامہ کي آنکھوں ميں دھول جھونکنے ميں کامياب نہيں ہوسکتے۔ذرائع ابلاغ کے دفاتر پر دہشتگردوں کے حملوں سے صدر بشار اسد کے حاليہ بيان کي تصديق ہوتي ہے کہ ان کے ملک کو ايک بھرپور جنگ کا سامنا ہے۔ليکن اس کے باوجود صدر بشار اسد مسلسل اس بات پر زور ديتے چلے آرہے ہيں کہ شام کے خلاف فوجي کاروائياں اور سياسي سازشيں ناکام ہوکے رہيں گي۔
.......
/169