ابنا: شام کے صدر بشارالاسد نے ملک میں سولہ ماہ سے دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام مکمل طور پر حالت جنگ میں ہے اور حکام کا فریضہ ہے کہ وہ اس جنگ میں کامیاب ہونے کی کوشش کریں۔ ہماری جنگ امریکی باطل محاذ سے ہے جس میں سعودی عرب، اسرائیل، قطر اور ترکی شامل ہیں۔سانا نیوز کے مطابق شامی صدر بشارالاسد نے نومنتخب کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اور اس میں فتح کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک اس وقت ہر طرح سے حالت جنگ میں ہے اور اگر آپ حالت جنگ میں ہوں تو اس صورتحال میں تمام پالیسیاں، تمام پہلووں سے اور تمام شعبوں کو یہ جنگ جیتنے کے حوالے سے ہدایت دینے کی ضرورت ہے۔ بشار اسد نے کہا کہ شامی عوام کے ساتھ مغربی ممالک کو عناد اور دشمنی ہے لہذا ہمیں اپنے روابط کا رخ مشرق بالخصوص روس اور امریکی لاطینی ممالک کی طرف موڑنا چاہیے ہم تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام کی بنیاد پر روابط برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ بشار اسد نے کہا کہ بعض ممالک اعلانیہ طور پر دہشت گردوں کو ہتھیار فراہم کررہے ہیں اور ان کی پشتپناہی بھی کررہے ہیں لہذا امریکہ اور اس کے اتحادی عرب ممالک کے ساتھ ہماری درپردہ جنگ جاری ہے۔ بشار اسد نے کہا کہ سعودی عرب، قطر اور ترکی امریکہ اور اسرائیل کا شام کے خلاف متحدہ محاذ ہے اور اس باطل محاذ کو شکست دینا ہم سب کا فریضہ ہے۔......./169
27 جون 2012 - 19:30
News ID: 325497
شام کے صدر بشارالاسد نے ملک میں سولہ ماہ سے دہشت گردی اور بیرونی مداخلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام مکمل طور پر حالت جنگ میں ہے اور حکام کا فریضہ ہے کہ وہ اس جنگ میں کامیاب ہونے کی کوشش کریں، ہماری جنگ امریکی باطل محاذ سے ہے جس میں سعودی عرب، اسرائیل، قطر اور ترکی شامل ہیں۔