23 جون 2012 - 19:30

بحرين ميں عوام نے علما سے اظہار يکجہتي کے لئے وسيع پيمانے پر مظاہرے کئے ہيں -

ابنا: بحرين کے علاقے الغربيہ ميں عوام نے ايک بڑا مظاہرہ کيا ہے -مظاہرے کي کال چودہ فروري نامي انقلابي گروہوں کے اتحاد نے دي تھي - اس انقلابي اتحاد کي طرف سے جاري ہونےوالے بيان ميں کہا گيا تھا انقلابيوں کي صفوں ميں اتحاد کي تقويت اور علماء کي قيادت ميں انقلابي تحريک کو آگے بڑھانا ہي بحرين کي شاہي ظالم حکومت کے مظالم سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے- انقلابيوں کے مذکورہ اتحاد نے بحريني عوام سے کہا ہے کہ وہ آل خليفہ حکومت کے خلاف متحد طريقے سے تحريک جاري رکھ کر اپني تقدير کا فيصلہ خود کريں -  اسي طرح کے مظاہرے بحرين کے ديگر علاقوں ميں بھي ہوئے ہيں -  واضح رہے کہ يہ مظاہرے  جمعيت وفاق ملي کے سکريٹري جنرل شيح علي سلمان پر بحريني سيکورٹي فورس کے حملے پر احتجاج کرنے کي غرض سے کيا گيا تھا - جمعے  کو ہونے والے مظاہرے کے دوران سيکورٹي اہلکاروں نے بحرين کي سب سے بڑي اپوزيشن جماعت جمعيت وفاق ملي کے سربراہ شيخ علي سلمان پر حملہ کرکے انہيں زخمي کرديا تھا - اس حملے ميں ان کے شانے اور کمر ميں چوٹ آئي تھي -  شيخ علي سلمان پر بحريني سيکورٹي اہلکاروں کے حملے پر ملک کي سبھي سياسي و مذہبي جماعتوں نے شديد ردعمل کا اظہارکيا ہے-  اگرچہ ايسا پہلي بار نہيں ہے جب آل خليفہ کي حکومت نے بحرين کي مذہبي اور قومي شخصيات کو نشانہ بنايا ہے ليکن ايسا لگتا ہے کہ بحريني عوام کي تحريک ميں جيسے جيسے شدت آتي جارہي ہے، بحريني حکام کي بوکھلاہٹ اتني ہي  بڑھتي جارہي ہے اور اسي کے ساتھ   آل خليفہ حکومت کے مظالم کے خلاف عوامي غيظ و غضب ميں اضافہ ہوتا جارہا ہے -   فروري دو ہزار گيارہ ميں جب بحريني عوام نے اپنے انقلاب کا آغاز کيا تھا اس وقت آل خليفہ کي حکومت يہ سمجھ رہي تھي کہ وہ مظاہرين کو کچل کر يا پھر ان کا خون بہا کر ظالم حکمرانوں کے خلاف عوام کي صدائے احتجاج کو دبا دے گي،  ليکن آہستہ آہستہ يہ بات ثابت ہوتي چلي گئي کہ بحرين کے عوام نے ملک ميں سياسي نظام کو تبديل کرنے اور بنيادي اصلاحات کے نفاذ کا تہيہ کرليا ہے    بحرين ميں عوام کے پر امن انقلاب کو ايک سال سے زائد کا عرصہ ہوگيا ہے اور اس عرصے ميں آل خليفہ حکومت نے پرامن طريقے سے مظاہرے کرنےوالے بحريني عوام پر کسي بھي طرح کے مظالم سے دريغ نہيں کيا ہے - مظاہرين کي گرفتاري، انہيں ايذا رساني، سرکاري ملازمتوں سے انہيں برخاست کيا جانا اور ان پر براہ راست فائرنگ کرکے انہيں شہيد کيا جانا يہ ايسے ظالمانہ ہتھکنڈے ہيں جنھيں آل خليفہ نے مظاہرين کے خلاف استعمال کيا ہے - اس کے علاوہ چھرے والي گوليوں اور زہريلي آنسو گيس کا استعمال بھي بحريني حکومت کے  کارندوں نے عام شہريوں پر بڑي ہي بے دردي کے ساتھ کيا ہے  - يہي نہيں سعودي عرب نے بحريني عوام کے انقلاب کو کچلنے کے لئے مارچ دو ہزار گيارہ ميں اپني فوج بحرين ميں اتار دي اور نہتے شہريوں کا مقابلہ سعودي عرب کي فوج، ٹينکوں سے کررہي ہے جبکہ امريکا بھي بحريني سيکورٹي فورس اور فوج کو جديد ترين ہتھياروں سے ليس  کررہا ہے تاکہ جيسے بھي ہو پرامن مظاہرين کا قلع قمع ہوسکے -     اس ميں شک نہيں کہ بحرين ميں عام شہريوں اور مظاہرين پر جتنے بھي مظالم ہورہے ہيں وہ امريکا کي ايماء پر ہي ہورہے ہيں مگر اس کے باوجود بحرين کے عوام اور خاص طور پر اس ملک کے علماء اور سياسي شخصيات آل خليفہ حکومت کے مظالم کو خاطر ميں لائے بغير بحريني معاشرے ميں بنيادي تبديلي کے لئے کمربستہ ہيں جہاں مغرب سے وابستہ ايک اقليتي گروہ  نے حکومت پر قبضہ کررکھا ہے- بحرين کے عوام اور سياسي گروہوں کا کہنا ہے کہ پرامن مظاہروں اور سڑکوں پر نکل کر اپنے مطالبات بيان کرنے کا طريقہ اپنا کرہي وہ اپنے حقوق حاصل کرسکيں گے- اسي لئے انقلابي گروہوں نے کہا ہے کہ وہ اپني صفوں ميں اتحاد کو مستحکم بنا کر بحرين پر حکومت کرنےوالے نسل پرست ٹولے کے خلاف اپني جد جہد جاري رکھيں گے اور آل خليفہ حکومت سے انہيں کسي قسم کا کوئي خوف نہيں ہے  -......./169