23 جون 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد، ونیزوئیلا کے اپنے ہم منصب سے دو طرفہ تغلقات کے فروغ اور مختلف علاقائی و بین الاقوامی مسائل کے بارے میں گفتگو کی غرض سے کاراکاس پہنچے ہیں ۔

ابنا: صدر مملکت جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد جو گذشتہ ہفتے لاطینی امریکہ کیلئے روانہ ہوئے ہیں بولیویا کے بعد برازیل گئے اور اپنا دورہ جاری رکھتے ہوئے کل رات ونیزوئیلا پہنچے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے ونیزوئیلا کے اپنے ہم منصب کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ کی تقریب میں اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ایرانی قوم ہمیشہ ونیزوئیلا کی قوم کے ساتھہ رہے گی کہا کہ جغرافیائی دوری دونوں قوموں میں یکجہتی و تعاون میں رکاوٹ کا باعث نہیں بنے گی اور ایران و ونیزوئیلا دونوں ممالک، متحدہ طور پر اپنے ایک ہی محاذ پر ڈٹے رہیں گے ۔ اس موقع پر ونیزوئیلا کے صدر مسٹر ہوگو چاویز نے بھی ایران کوعالمی سطح پر ایک بااثر اور قابل ذکر اہمیت کا حامل ملک قرار دیا اور تاکید کے ساتھہ کہا کہ ایران کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیاں ہرگز کارگر ثابت نہیں ہوں گی ۔ انھوں نے اسی طرح دونوں ملکوں کے تعلقات کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے حکام ایران اور ونیزوئیلا کے ہمہ جہتی تعلقات کی سطح بڑھانے کیلئے مکمل عزم و ارادہ رکھتے ہیں ۔ ایران اور ونیزوئیلا کے متعدد مشترکہ منصوبوں کے پیش نظر مختلف شعبوں میں دونوں ملکوں کا تعاون اعلی سطح پر جاری ہے ۔ حالیہ برسوں کے دوران لاطینی امریکہ کے ملکوں کے ساتھہ ایران کے تعلقات کافی فروغ پائے ہیں اور یہ عمل، ایران کی خارجہ پالیسی کے اصول کے تحت عمل میں آیا ہے ۔ ایران اور ونیزوئیلا کے بڑھتے ہوئے تعلقات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ دونوں ملکوں کے حکام مذاکرات کے ذریعے ہر اس راہ کا جائزہ لینے کیلئے تیار ہیں جس سے ترقی و پیشرفت کے ساتھہ ساتھہ مسائل و مشکلات کا خاتمہ ہوسکے تاہم لاطینی امریکہ میں ایران کا بڑھتا ہوا تعاون اور اس علاقے کے مختلف ملکوں منجملہ اکواڈور ۔ ونیزوئیلا ۔ بولیویا ۔ اور برازیل کے ساتھہ کہ جہاں کبھی امریکہ کا کافی اثرورسوخ تھا ایران کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر امریکی حکام کو تشویش لاحق ہوگئی ہے ۔ جنوری میں امریکی وزارت خارجہ نے لاطینی امریکہ میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس علاقے کے ملکوں کو ایران کے ساتھہ سفارتی و تجارتی تعلقات بڑھانے پر خبردار کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی سینٹ کی خارجہ تعلقات کی ذیلی کمیٹی نے فروری کے اپنے اجلاس میں لاطینی امریکہ کے مختلف ملکوں منجملہ ونیزوئیلا کے ساتھہ ایران کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا خاص طور سے جائزہ لیا۔ جس بات نے امریکی حکام کو لاطینی امریکہ میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ پر تشویش میں مبتلا کردیا ہے ایران اور لاطینی امریکہ کے مختلف ملکوں کا سامراج مخالف روّیہ ہے جنھوں نے حالیہ برسوں کے دوران اس علاقے میں امریکہ کا اثرورسوخ کم کرنے کیلئے اہم اقدامات بھی کئے ہیں ۔ جیساکہ حالیہ ملاقات میں بھی اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد اور ونیزوئیلا کے صدر مسٹر ہوگو چاویز نے تاکید کے ساتھہ کہا ہے کہ اس وقت دنیا میں استقامت و مزاحمت کے نام پر دوڑ شروع ہوچکی ہے اور اس دوڑ میں یقینا حریت پسند قومیں ہی کامیابی سے ہمکنار ہوں گی ۔......./169