19 جون 2012 - 19:30

سلمان بن عبدالعزیز کے سعودی وزیر دفاع کی حیثیت سے اسرائیل کے ساتھ بھی اچھے روابط ہیں حتی اگر وہ سعودی افواج کے لئے ہتھیار اور جدید وسائل بھی خریدتے ہیں تو یہودی ریاست سے اس کی اجازت لیتے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق القدس العربی نے 29 مئی کے شمارے میں لکھا کہ سعودی حکومت صہیونی ریاست کی اجازت سے نئے ٹینک خرید رہی ہے۔

القدس العربی نے ہسپانوی روزنامے ال پایس (EL PAÍS) کے حوالے سے لکھا کہ سعودی حکومت جرمنی سے لئوپارڈـ2 ماڈل کے 200 سے 300 تک ٹینک خریدنا چاہتی ہے جس میں سپین کی حکومت ثالثی کا کردار ادا کررہی ہے اور اسرائیل نے بھی سعودی عرب کو یہ ٹینک خریدنے کی اجازت دی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت یہ ٹینک براہ راست جرمن کمپنیوں سے نہيں خریدنا چاہتی بلکہ ہسپانوی وزارت دفاع یہ ٹینک جرمنی سے درآمد کرکے سعودیوں کے حوالے کرے گے۔

ہسپانوی وزیر دفاع پدرو راموس (PEDRO RAMOS) سعودی وزیر دفاع سلمان بن عبدالعزیز کے قریبی دوست ہیں اور  انہوں نے مئی کے وسط میں سعودی عرب کا دورہ کیا تھا۔

سعودی وزیر دفاع اسرائیل کی اجازہ اور اسپین کے توسط سے جو ٹینک خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں ان میں سے ہر ٹینک کی قیمت پچاسی لاکھ یورو ہے لیکن سلمان بن عبدالعزیز ان ٹینکوں میں بعض تبدیلیوں کے خواہاں ہیں چنانچہ ہر ٹینک کی قیمت ایک کروڑ یورو سے تجاوز کرے گی۔
..........

/169