اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی اخبار ہاآرتص نے ایک تحقیقی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ محمد بن زاید نے ستمبر 2023 کے آخری دنوں میں نیتن یاہو سے تقریباً 45 منٹ تک ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی اور انہیں حماس کے اس وقت کے سربراہ یحییٰ السنوار کی جانب سے ایک ’’بڑے واقعے‘‘ کی تیاری سے خبردار کیا تھا۔
ہاآرتص کے مطابق بن زاید نے نیتن یاہو کو خبردار کیا تھا کہ حماس کی ممکنہ کارروائی کے خطے اور اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات سمیت نام نہاد ’’ابراہیمی معاہدوں‘‘ پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اماراتی صدر نے نیتن یاہو پر زور دیا تھا کہ وہ اس خطرے کو سنجیدگی سے لیں اور اس کے لیے تیاری کریں۔ بن زاید نے کشیدگی کم کرنے کے لیے غزہ کے لیے اقتصادی حل تلاش کرنے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں دباؤ کم کرنے کی تجاویز بھی پیش کی تھیں۔
ہاآرتص کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے اس وارننگ کو مختلف انداز میں دیکھا اور خیال ظاہر کیا کہ حماس ممکنہ طور پر مغربی کنارے میں کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے مبینہ طور پر کہا کہ اسرائیل تمام ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔
رپورٹ کے مطابق 7 اکتوبر سے قبل حماس کی بڑی کارروائی کے حوالے سے اسرائیلی حکام کو ملنے والی یہ واحد وارننگ نہیں تھی۔ اس سے قبل بن زاید کے قریب سمجھے جانے والے ایک فلسطینی ذریعے نے بھی یحییٰ السنوار سے منسوب پیغام اسرائیلی حکام تک پہنچایا تھا، جس میں ’’زلزلے‘‘ اور ’’بڑے سرپرائز‘‘ کا ذکر کیا گیا تھا۔
ہاآرتص کے مطابق یہ پیغامات 15 ستمبر 2023 کو اسرائیلی داخلی سلامتی کے ادارے شاباک تک پہنچائے گئے تھے۔ شاباک کے سربراہ رونن بار نے مبینہ طور پر نیتن یاہو کو اس خطرے سے آگاہ کیا، جس کے بعد 17 ستمبر کو اس وقت کے اسرائیلی وزیر جنگ یوآو گیلنٹ اور اعلیٰ فوجی و سکیورٹی حکام کی موجودگی میں اجلاس بھی ہوا۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ مصر کے سابق انٹیلی جنس سربراہ عباس کامل نے بھی نیتن یاہو کو حماس کی جانب سے کسی ’’غیر معمولی‘‘ اور ’’خوفناک کارروائی‘‘ کی تیاری سے آگاہ کیا تھا۔
ہاآرتص کے مطابق یکم اکتوبر کو رونن بار نے حماس کی اعلیٰ قیادت، جن میں یحییٰ السنوار بھی شامل تھے، کو نشانہ بنانے کی تجویز دوبارہ پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے اس پر منصوبہ تیار کرکے پیش کرنے کو کہا، تاہم عملی طور پر کوئی فیصلہ کن کارروائی نہیں کی گئی۔
رپورٹ کا ایک اہم دعویٰ یہ بھی ہے کہ نیتن یاہو نے محمد بن زاید کی مبینہ وارننگ شاباک، موساد اور اسرائیلی فوج کے سربراہوں تک منتقل نہیں کی۔ ہاآرتص کے مطابق ایک شاباک اہلکار کا کہنا ہے کہ اگر سکیورٹی اداروں کو بیرونی ذرائع سے ملنے والی ان وارننگز سے بھی آگاہ کیا جاتا تو حماس کی تیاریوں سے متعلق ابتدائی اطلاعات کو زیادہ اہمیت دی جاسکتی تھی اور اسرائیلی ادارے حماس کے ارادوں کے بارے میں مختلف اور زیادہ سنجیدہ اندازہ قائم کرسکتے تھے۔
تاہم نیتن یاہو کے دفتر نے ہاآرتص کی رپورٹ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ’’مکمل جھوٹ‘‘ قرار دیا ہے۔ دفتر کا کہنا ہے کہ مذکورہ عرصے میں نیتن یاہو اور محمد بن زاید کے درمیان کوئی ٹیلی فونک رابطہ نہیں ہوا اور نہ ہی اماراتی صدر کی جانب سے ایسی کوئی وارننگ دی گئی۔
رونن بار اور اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ ہرزی ہالوی نے بھی کہا ہے کہ انہیں محمد بن زاید کی جانب سے مبینہ وارننگ کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔ یوں ہاآرتص کی تحقیقات نے 7 اکتوبر سے قبل اسرائیلی قیادت کو ملنے والی مبینہ وارننگز اور اعلیٰ سکیورٹی حکام تک معلومات کی ترسیل پر نئے سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ نیتن یاہو کا دفتر بن زاید سے رابطے اور کسی بھی وارننگ کے موصول ہونے کی مکمل تردید کررہا ہے۔
آپ کا تبصرہ