8 ستمبر 2026 - 17:10
غزہ امدادی قافلوں کے 26 فرانسیسی شہریوں کا اسرائیل پر تشدد کا الزام، پیرس میں مقدمہ دائر

غزہ کے لیے امدادی قافلوں میں شریک 26 فرانسیسی شہریوں نے پیرس کی عدالت میں اسرائیلی حکومت کے خلاف شکایت دائر کرتے ہوئے تشدد، غیر انسانی سلوک اور جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا ہے۔ درخواست گزاروں نے فرانسیسی حکام سے ذمہ دار اسرائیلی اہلکاروں کو حاصل قانونی تحفظ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، 26 فرانسیسی شہریوں نے پیر کو پیرس میں انسداد دہشت گردی کے قومی پراسیکیوٹر کے دفتر میں شکایت درج کراتے ہوئے اسرائیلی حکومت پر تشدد اور جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا۔

شکایت کنندگان ’’گلوبل فلوٹیلا‘‘ کے امدادی قافلوں کا حصہ تھے اور ان کے مطابق انہیں اکتوبر 2025، اپریل اور مئی 2026 میں تین الگ الگ سفر کے دوران بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی پانیوں میں ان کے بحری جہازوں کو روک کر ان کا رخ تبدیل کیا اور انہیں من مانی طور پر حراست میں لے لیا۔

شکایت میں اسرائیلی فوج پر قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے، بجلی کے جھٹکے دینے، تضحیک آمیز اور غیر انسانی سلوک، کپڑے اتارنے پر مجبور کرنے، طویل عرصے تک کنکریوں پر گھٹنوں کے بل بٹھانے اور جسم پر گرم پٹیاں رکھنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

فرانسیسی شہریوں نے مزید الزام لگایا کہ انہیں جھوٹے اعترافات پر دستخط کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ پانچ شکایت کنندگان نے جنسی نوعیت کے نامناسب لمس کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

شکایت کنندگان کے وکلا، جن میں شیرین اردکانی، ہانا بوشارب اور رومن رویز سمیت دیگر وکلا شامل ہیں، نے فرانسیسی ججوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کارروائیوں میں ملوث ممکنہ ذمہ دار افراد کو حاصل قانونی تحفظ ختم کیا جائے تاکہ ان کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کی جا سکے۔

پیرس کے انسداد دہشت گردی کے قومی پراسیکیوٹر کے دفتر نے گزشتہ موسم گرما سے اس معاملے میں دو ابتدائی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں، جنہیں انسانیت کے خلاف جرائم سے نمٹنے والے مرکزی دفتر کے حوالے کیا گیا ہے۔ پہلی تحقیقات فرانسیسی وزارت خارجہ کی رپورٹ کے بعد تشدد اور جنگی جرائم کے الزامات کے تحت شروع کی گئی تھی۔

اس دوران امدادی قافلوں میں شامل مختلف ممالک کے تقریباً 430 کارکنوں کے ساتھ اسرائیلی حکام کے مبینہ سلوک پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو نے بھی شدید ردعمل پیدا کیا، جس میں قافلے کے کارکنوں کو ہاتھ بندھے اور گھٹنوں کے بل بیٹھے دکھایا گیا تھا۔

اس معاملے میں اٹلی، آسٹریلیا اور ترکی میں بھی تحقیقات جاری ہیں۔ خبر کے مطابق ترکی نے اسی مقدمے کے سلسلے میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی گرفتاری کا حکم بھی جاری کیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha