ابنا: صدر ڈاکٹراحمدی نژاد نے جرمن اخبار فرانکفورتر آلگماینہ سے گفتگو میں کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران شام کو بھی دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح نصیحت کرتا ہےکہ قوم کو آزادی، انتخابات، اور بنیادی حقوق، عدل و انصاف، احترام اور خود مختاری کا حق حاصل ہے ۔
انہوں نے کہا کہ اصلاحات مغرب اور مشرق وسطی میں ضروری ہیں اور الیکشن پرامن فضا میں ہونے چاہیں لیکن افسوس کہ شام میں نیٹو اور بعض علاقائي ملکوں کی مداخلت سے بحران پیچیدہ ہوچکا ہے۔
صدر جناب احمدی نژاد نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران شام کے بحران کو حل کرنے کےلئے تمام فریقوں سے تعاون کرنے کو تیار ہے تاکہ یہ مسئلہ گفتگو کے ذریعے حل ہوسکے اور شام کے گروہ ایک دوسرے کے قریب آسکیں اور گفتگو کا ماحول قائم ہوسکے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد نے ماسکو مذاکرات کے بارے میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بھر پور طرح سے ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ تعاون کررہا ہے بنابرین سارے ملکوں کے حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔
صدر جناب احمدی نژاد نے پارچین فوجی سائٹ کے بارے میں کہا کہ اس سائٹ کے معائنے میں بات ایران اور آئی اے ای اے کے معاہدوں میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران صرف طبی ضرورتوں کے لئے بیس فیصد تک یورینیم افزودہ کررہا ہے اور ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کے قوانین کے مطابق ایران کو بیس فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے۔
.......
/169