16 جون 2012 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کا نیا دور کل روس کی میزبانی کے ساتھ ماسکو میں ہوگا۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی ان مذاکرات میں شرکت کے لۓ ایک وفد کو ساتھ لے کر آج ماسکو پہنچ گۓ ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کے پریس آفس نے اس سلسلے میں ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گيا ہے کہ یہ مذاکرات گروپ پانچ جمع ایک کے سینئر سیاسی ڈائریکٹروں کی موجودگی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ کیتھرین ایشٹون کے درمیان ہوں گے۔

گزشتہ تین ماہ کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی مذاکرات کاروں اور گروپ پانچ جمع ایک کے سفارتکاروں ہونے والے جامع اور پیچیدہ مذاکرات کا یہ تیسرا دور ہے۔

روسی حکام ایران کے ایٹمی معاملے کے قدم بقدم حل کۓ جانے کی تاکید کے ساتھ اور مذاکرات کے اس دور کے میزبان کی حیثیت سے ماسکو اجلاس کے بارے میں اچھی توقعات رکھتے ہیں اور انھوں نے ان مذاکرات سے قبل ایک بار پھر یورپ کی جانب سے ایران کے خلاف لگائي جانے والی پابندیوں کے اٹھائے جانے پر زور دیا ہے۔

ایسی حالت میں کہ جب ماسکو ایران اور گروپ پانچ جمع کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی میزبانی کی تیاروں میں مصروف ہے۔ امریکہ کے بعض سینیٹروں کا صدر باراک اوباما سے ان مذاکرات کا ماحول خراب کۓ جانے کا مطالبہ توجہ طلب ہے۔

ماسکو مذاکرات سے قبل امریکہ کے بعض سینیٹروں نے باراک اوباما کو ایک خط ارسال کر کے ان مذاکرات کے لۓ شرائط مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکہ کے چالیس سینیٹروں نے باراک اوباما کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ اگر ایران یورینیئم کی افزدوگي روکنے پر راضی نہ ہو تو اس کے ساتھ مذاکرات پر نظرثانی کی جائے۔

اس خطے میں امریکی صدر سے یہ مطالبہ بھی کیا گيا ہے کہ اگر ماسکو مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے تو پابندیوں کے ذریعے ایران پر دباؤ میں شدت پیدا کی جائے۔

ایٹمی معاملے کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا موقف واضح ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی نے روس کے ٹی وی چینل رشیا ٹوڈے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو مذاکرات کی کامیابی کے لۓ ہم توقع رکھتے ہیں کہ یورینیئم کی افزدوگي کے ایران کے حق کوتسلیم کیا جائے گا۔

سعید جلیلی نے روس کے رشیا ٹوڈے ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران شفاف منطق کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ، وہ مذاکرات کا خیر مقدم کرتا ہے اور ایٹمی توانائی سمیت وسیع تر دائرے میں مختلف ممالک کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہے بنابریں اگر استنبول اور بغداد مذاکرات کے دوران پیدا ہونے والے اتفاق رائے کا احترام کیا جائے تو ماسکو اجلاس کی کامیابی کی امید رکھی جاسکتی ہے۔....... /169