ابنا: يمني مظاہرين نے پورے ملک ميں مظاہرے کئے اور دار الحکومت صنعاء کے علاوہ صعدہ، تعز اور ديگر شہروں ميں عوام نے ملک کے داخلي امور ميں امريکا اور اسرائيل کي مداخلتوں کي مذمت کي ـ
مظاہرين نے امريکا سے ہر طرح کا سياسي و دفاعي تعاون ختم کئے جانے کا مطالبہ کيا اور کہا کہ ملک کے سياسي ميدان سے علي عبد اللہ صالح حکومت کي باقيات کو باہر نکالا جائےـ
يمن ميں عوام نے جنوري دو ہزار گيارہ سے صالح کي تينتيس سالہ حکومت کے خلاف انقلابي تحريک شروع کي تھي ـ
اس سال فروري ميں صالح نے مجبور ہوکر اقتدار اپنے معاون عبد ربہ منصور ہادي کو سونپ ديا تھاـ تاہم عوام کا مطالبہ ہے کہ صالح حکومت کے تمام عناصر اہم عہدوں سے برطرف کئے جائيں -
.......
/169