14 جون 2012 - 19:30

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سيد حسن نصراللہ نے کہا کہ ان کي تنظيم ملک کي ارضي سالميت پر آنچ نہيں آنے دے گي۔

ابنا:‌ يہ بات انہوں نے اسلامي جمہوريہ ايران کے قومي ٹيلي ويژن کے نمائندے سے خصوصي بات چيت کرتے ہوئے کہي۔ سيدحسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ ملک کي ارضي سالميت کے حوالے سے  حزب اللہ کا کردار پوري طرح واضح ہے۔انہوں نے سابقہ حکومت پر کڑي نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ سابق حکومت نے  لبنان کے خلاف اسرائيلي جارحيت کے موقع پر اپني ذمہ داريوں پر عمل نہيں کي۔ انہوں نے واضح کيا کہ حزب اللہ نے ملک کے خلاف جارحيت کے دوران اپنا بھرپور کردار ادا کيا ہے اور ہم ملک کے اندروني معاملات ميں مداخلت نہيں کرتے۔ حزب اللہ لبنان کے سيکريٹري جنرل نے  جنوب لبنان کي اسرائيل قبضے آزادي کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ ايسا صرف اور صرف تحريک مزاحمت کي وجہ سے ممکن ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ اگر حزب اللہ نہ ہوتي تو اسرائيل کبھي بھي جنوبي لبنان سے قبضہ ختم نہيں کرتا۔سيد حسن نصراللہ نے دوہزار چھے کي تينتيس روز جنگ کي جانب بھي اشارہ کيا اور يہ بات زور ديکر کہي کہ اس جنگ ميں نصرالہي کا وعدہ پورا ہوا ہے۔ حزب اللہ کے کمزور يا طاقتور  ہونے کے بارے ميں انہوں نے کہا صہیوني حکام خود اس بات کا اعتراف کر رہے ہيں کہ دوہزار چھے کے مقابلے ميں حزب اللہ کي طاقت ميں زبردست اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے ايک بار پھر يہ بات زور ديکر کہي کہ حزب اللہ کي ميزائيلي صلاحيت اس قدر زيادہ ہے کہ  ہم مقبوضہ فلسطين کے جس علاقے کو چاہيں ميزائل کا نشانہ بناسکتے ہيں۔انہوں نے کہا کہ دوہزار چھے کي جنگ کے بعد حزب اللہ کي عوامي حمايت ميں پہلے کے مقابلے ميں کئي گنا زياد اضافہ ہوا ہے۔......./169