11 جون 2012 - 19:30

پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کا امریکہ ان کے ملک کے قبائلی علاقوں پر حملوں سے سیاسی فائدہ اٹھا رہا ہے ۔

ابنا: انھوں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاکید کے ساتھہ کہا کہ امریکہ کے ان حملوں کا مقصد اسلام آباد پر دباؤ ڈالنے کی واشنگٹن کی پالیسیوں کو کامیاب بنانا ہے ۔

ادھر پاکستان کے شہر کراچی کے ہزاروں افراد نے کل ایک بڑا مظاہرہ کرکے امریکی حملوں میں عام شہریوں کے ہونے والے جانی نقصان کی مذمت کرتے ہوئے امریکی ڈرون حملے فوری طور پر بند کئے جانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ پاکستان جو افغانستان پر امریکی حملوں کے وقت امریکہ کا غیر نیٹو اتحادی کہلاتا تھا اب امریکی حکام کی جانب سے عائد کئے جانے والے الزامات کا ایک مرکز بنا ہوا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے حکام کا خیال ہے کہ قبائلی علاقوں پر امریکی حملوں کا مقصد دہشتگردی کا مقابلہ کرنا نہیں بلکہ ان حملوں کا مقصد اسلام آباد پر دباؤ ڈالنے کی واشنگٹن کی پالیسیوں کو کامیاب بنانا ہے ۔

امریکہ پاکستان سے اس بات کی توقع کررہا تھا کہ وہ طالبان کے ساتھہ مذاکرات کے عمل میں تعاون کریگا جبکہ وہ پاکستان سے نیٹو سپلائی کی بحالی کا بھی مطالبہ کرتا رہا ہے اور یہ ایسے میں ہے کہ پاکستان، افغانستان سے متعلق امریکی پالیسیوں کا مقصد غیر واضح سمجھتا ہے جس کے نتیجے میں اس کے خیال میں افغانستان میں پاکستان کا اثرورسوخ کم اور پوزیشن شدید طور پر متاثر ہوگی۔

افغانستان میں ہمہ جہتی موجودگی بڑھانے کیلئے ہندوستان سے امریکہ کی درخواست اور واشنگٹن کی علاقائی پالیسیوں میں اسلام آباد پر نئی دہلی کو ترجیح دئے جانے سے پاکستان میں ناخوشی پائی جاتی ہے اسلئے کہ پاکستان یہ تصور کررہا تھا کہ افغانستان میں امریکہ کے ساتھہ اس کے تعاون سے اس ملک میں اسلام آباد کا اثرورسوخ بڑھنے کے ساتھہ ساتھہ واشنگٹن کی علاقائی پالیسیوں میں اس کی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی مگر عمل میں نہ صرف ایسا نہیں ہوا بلکہ یہ بھی صاف ظاہر ہوگیا کہ امریکہ، افغانستان میں پاکستان کے ایٹمی حریف ملک ہندوستان کو زیادہ اہمیت دیتا ہے ۔

نئی دہلی-واشنگٹن ایٹمی معاہدے کی مانند اسلام آباد-واشنگٹن ایٹمی معاہدہ کرنے سے امریکہ کا گریز اور طالبان کے ساتھہ مذاکرات کے عمل سے پاکستان کو الگ رکھنا ایسے مسائل ہیں جو پاکستان-امریکہ تعلقات پر کافی اثر انداز ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکہ کے جاری ڈرون حملے بھی ان مسائل میں سے ہیں کہ جن کی بناء پر پاکستانی عوام میں ماضی کی نسبت کہیں زیادہ غم و غصہ بھڑک اٹھا ہے اور اس مسئلے نے امریکہ کے ساتھہ تعاون جاری رکھنے میں پاکستان کی حکمراں پیپلز پارٹی کو دشوار صورت حال سے دوچار بھی کردیا ہے اسلئے کہ پاکستان کے عوام ڈرون حملوں میں عام شہریوں کے ہونے والے قتل عام کی بناء پر اپنے ملک سے امریکی سفیر کو نکال باہر کئے جانے کے خواہاں ہیں ۔

جبکہ پاکستان کی حکومت نے بھی امریکہ کے خصوصی اہلکاروں کیلئے ویزے جاری کرنے کا عمل روک کر ایک طرف واشنگٹن سے احتجاج کرنے اور دوسری طرف پاکستان کے عوام کو یہ جتانے کی کوشش کی ہے کہ ان کے ملک کی حکومت، آزادی و قومی اقتدار کی خلاف ورزی کئے جانے کے مسئلے میں لاپرواہ نہیں ہے۔ حالانکہ پاکستان کے عوام اپنے ملک کی حکومت کے اس قسم کے اقدامات اور اسلام آباد کی جانب سے ظاہر کئے جانے والے رد عمل کو ناکافی سمجھتے ہیں اور وہ امریکہ سے تمام تعلقات منقطع کئے جانے کے خواہاں ہیں ۔.......

/169