ابنا: شام کےحالات کےسلسلےمیں مغرب ومشرق کی بڑی طاقتوں کےواضح موقف سےاس علاقےکابحران ایک عالمی مسئلےمیں تبدیل ہوچکاہے۔ ان حالات میں صہیونی حکام کی یہ کوشش ہےکہ اس موقع کواسلامی جمہوریہ ایران کےخلاف اپنےدشمنانہ دعوں کودہرانےکےلئےاستعمال کریں۔
اسرائیلی وزیراعظم نتن یاھونے جوبظاہر شامی دہشتگردوں کومسلح کرنےمیں صیہونیوں کاکردار بھول گئےہيں ایک بیان میں دعوی کیاہےکہ ایران اورحزب اللہ لبنان شام میں عام شہریوں کےقتل عام میں ملوث ہيں۔ نتن یاھو ،جوبظاہرشام کےحالیہ تشدد پرتشویش ظاہرکررہےتھے کہاکہ بشاراسد عام شہریوں کوقتل کررہےہيں اورہم بچوں اوربوڑھوں کےقتل کی ہولناک تصویريں دیکھ رہےہیں ۔
یہ موقف ایک صہیونی حکمراں کی جانب سےبیان کیاجارہاہے جس کےکارنامےمیں علاقےمیں عام شہریوں کےقتل عام اورجارحیت کی ہزاروں داستانیں درج ہيں اورخود اس کاوجود جارحانہ قبضےکامرہون منت ہے۔ یہ مسئلہ ہرچیزسےزیادہ شام کےبحران سےصہیونیوں کےناجائزفائدہ اٹھائےجانےاور شہری علاقوں تک اس بدامنی کوپہنچانےاورنہتھےعوام کےقتل عام کوھوا دینےکی عکاسی کرتاہے۔ گذشتہ ہفتےشام کےدیہی علاقے میں انجام پانےوالی مجرمانہ کاروائی جسےمغربی اورعرب ذرائع ابلاغ کی جانب سے بڑےپیمانے پر شام کے سیکورٹی اہلکاروں کےکاندھوں پرڈالنےکی کوشش، قابل غورہے جبکہ دمشق حکومت نےاقوام متحدہ میں ایسےمحکم ثبوت پیش کئےہيں جس سےپتہ چلتاہےکہ حولہ اورالقبیرمیں ہونےوالےجرائم باغیوں نےانجام دیئےہيں جنھیں شام کےبعض پڑوسی ملکوں اورصیہونی حکومت نےمسلح کیاہے۔
شام میں بحرانی صورت حال کوپندرہ مہینےگذر رہےہیں اورحکومت دمشق نے ملک میں بدامنی کوھوا دینے اورباغیوں کومسلح کرنےمیں اسرائیل کےبراہ راست کردارکی جانب اشارہ کیاہےچنانچہ باغی لیڈروں نےبھی اسرائیلی ذرائع ابلاغ کوانٹرویومیں اس حکومت سےکھلےعام تعلقات قائم کرنےميں اپنی دلچسپی ظاہرکی ہے۔ ابھی کچہ دنوں پہلے لبنانی الجدید ٹی وی چینل نےفاش کیاہےکہ ایک گروہ کودہشتگردانہ کاروائیوں کےلئےشام بھیجنےکےلئے اسرائیل میں ٹریننگ دی جارہی ہے۔ اس رپورٹ کےمطابق شام میں مزیدآشوب بپاکرنےکےلئے اسرائیل سےسات سوپچاس ٹن ہتھیاراورگولہ بارود بھی بھیجاگیاہے۔ ابھی حال ہی میں شام کےرکن پارلیمنٹ زہیرغنوم نے اعلان کیاہےکہ مسلح عناصراوردہشتگردوں کےقبضےسےحاصل کئےجانےوالےزیادہ ترہتھیار اسرائیل کےبنےہوئےہيں۔
شام کاموجودہ بحران جودمشق حکومت پردباؤ ڈالنے اوربشاراسد کی حکومت گرانےکےلئےپیداکیاجارہاہے شامی حکومت کےدشمنوں کی کارستانی ہےجس میں روزبروز اضافہ ہورہاہے اورتشدد اورجارحیت کی نئی تاریخ رقم کی جارہی ہے کیونکہ فلسطین کےمسئلےمیں ایران اورحزب اللہ کےساتھ ساتھ شام بھی استقامت کےمحور میں شامل ہے اور اس نےاسرائیل کی جارحیت کےسامنےہمیشہ واضح موقف اختیارکیاہے۔
اس میں کوئی شک نہيں کہ صہیونی ریاست شام کی حکومت تبدیل کرناچاہتی ہے اوراس کےلئے وہ شام میں آشوب اوربدامنی کی آگ کوھوا دینےمیں کسی بھی کوشش سےدریغ نہيں کرےگی۔.......
/169