ابنا: اگرچہ وہ اس سے قبل بھی جنگ بندی کے سلسلے میں کوفی عنان کے منصوبہ کے پابند نہيں تھے لیکن ایسا لگتا ہے کہ باغیوں کی طرف سے جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرنے کے اعلان کے بعد شام بری سازشوں میں گھر گیا ہے
لاذقیہ صوبہ کے شہر الحفہ کے اسپتال کو جلانے اور دسیوں افراد کو اغوا کرنے کے واقعات سے پتہ چلتا ہے شام میں دیگر تلخ اور ناگوار واقعات رونما ہونے والے ہیں ۔اس وقت خطرہ اس بات کا ہے کہ شام میں پھر کہیں حولہ اورالقبیر گاؤں کی طرح عوام کا قتل عام نہ ہوجائے جن میں ایک سو اسی سے زائد مردوں ، عورتوں اور بچوں کا بہیمانہ طریقہ سے قتل عام کیا گیا تھا۔ باغیوں اور دہشت گردوں نے امریکہ اور بعض علاقائی مملک جیسے سعودی عرب ،قطر اور ترکی کی طرف سے مالی اور اسلحہ جاتی مدد اور حمایت کے ذریعہ شام میں قتل وغارت گری اور تشدد آمیز واقعات اور بد امنی پھیلارکھی ہے ۔
باغی اور دہشت گردشام کے مختلف علاقوں میں لوگوں کا بہیمانہ قتل عام کر کے کوفی عنان کے امن منصوبہ کو ناکام بناکر شام کے خلاف فوجی مداخلت کی فضا ہموار کرنے کوشش کر رہے ہیں اس سلسلے میں شام کے خلاف ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردوغان کے امریکہ اور مغرب کے اہداف کے مطابق بیان سےبھی پتہ چلتا ہے کہ ترکی امریکہ اور مغرب شام کےخلاف مشترکہ بین الاقوامی محاذ قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔اردوغان نے ایک غیر ذمہ دارانہ بیان میں کہا کہ بشار اسد اب شام میں نہیں رہ سکتے ۔ اسی طرح انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت انقرہ شام کے بارے میں ہر ضروری کام کو انجام دیتی ہے ۔
انھوں نے یہ بات ایسے وقت کہی ہے کہ ترکی حالیہ مہینوں میں کئی بار دمشق حکومت کے مخالفین کے اجلاس کی میزبانی کرچکا ہے بلکہ اس نے شام کے خلاف مغرب اور عربی اتحاد اور محاذ کے ساتھ تعاون خاص طور پر شام کےخلاف فوجی مداخلت میں اپنی آمادگی کا اعلان بھی کیا ہے ۔اردوغان کے اس بیان اور موقف کے مقابلے میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے نو جون کو ماسکو میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں بشار اسد کو صدر کے عہدے سے برطرف کئے جانے کے بارے میں اپنی مخالفت کا اعلان کیا اور مغرب اور بعض عرب ممالک کی طرف سے شام کے باغیوں کو بھیجے جانے والے ہتھیاروں اور مالی مدد پر تنقید کرتے ہوئے اس طرح کے اقدامات کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
اس وقت شام کے بارے میں مغرب اور عرب ممالک کی طرف سے دو تجاویز پیش کی گئی ہیں ۔پہلی تجویز یہ کہ شام پر فوجی حملہ کیا جائے اور دوسری تجویز یہ ہے کہ شام میں بھی وہی پالیسی اپنائی جائے جو یمن میں اختیار کی گئی ہے ۔ پہلی تجویز پراب تک روس اور چین کی مخالفت کی وجہ سے عمل نہیں ہوسکا ہے ۔روس اور چین شام کے بحران کے حل کے بارے میں کوفی عنان کے چھے نکاتی امن منصوبہ پر عمل درآمد کو ترجیح دیتے ہیں اور شام کے بارے میں یمن میں استعمال کی گئی پالیسی کے بارے میں روس کا کہنا ہے کہ جس طرح سے یمن میں صالح کے جانے کے بعد بھی امن قائم نہیں ہوسکا لہذا شام میں اس پالیسی کو نہیں اپنایا جاسکتا ہے ۔
اس لئے کہ شام کے باغی اور دہشت گرد مسلسل دہشت گردانہ اقدامات انجام دے رہے ہیں ۔روس کوفی عنان کے چھہ نکاتی امن منصوبہ کو شام کے بحران کا حل جانتا ہے ۔اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام کے بحران کو حل کرنے کے سلسلے میں کوفی عنان کے امن منصوبہ پر عمل درآمد کرانے کے لئے فضا ہموارکرانے میں تعاون اور مددکرے اور حکومت شام بھی اس امن منصوبہ پر عمل درآمداور تعاون کے بارے میں ضروری اقدامات انجام دے چکی ہے ۔
حکومت نے شام کے دیہاتوں سے اپنے فوجیوں کو نکال کر اپنی نیک نیتی کاثبوت دیا ہے ۔ لیکن دہشت گردوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکہ، سعودی عرب قطر اور ترکی کی حمایت کے ذریعہ شام میں لوگوں کا قتل عام کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کوفی عنان کا منصوبہ ناکام ہوچکا ہے اور شام کے بحران کو اب ڈپلومیسی سےحل نہیں کیا جاسکتا ہے۔
اس وقت باغی اور دہشت گرد اور ان کے حامی شام میں داخلی جنگ چھیڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور روس شام مخالف مغربی اور عربی محاذ کے سامنے ڈٹا ہواہے ،اورروس نے شام مخالف باغیوں اور دہشتگردوں کو ہتھیار دینے والے ممالک کو شام میں جاری بدامنی اور تشدد کا ذمہ دار ٹہرایا اور اس بات کی تاکید کی کہ شام کابحران فوجی حملے کے ذریعہ حل نہیں ہوسکتا ہے ۔ اور روس شام کے خلاف سلامتی کونسل میں زور زبردستی سے متعلق کسی طرح کی قرارداد کو منظور ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔.......
/169