ابنا: اطلاعات کے مطابق چاروں شیعہ حاجی نبی، محمد طارق، محمد حسن، حیات اللہ جو سرکی روڈ پر سیمنٹ کی دوکان میں بیٹھے تھے کہ اچانک کالعدم سپاہ صحابہ کے مُسلح دہشتگردوں نے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں دو سنی اور چار شیعہ مسلمان شہید ہوگئے ہیں۔
حاجی نبی اور اُن کا بیٹا طارق، محمد حسن اور حیات اللہ بھی موقع ہر ہی شہید ہوگئے۔
چاروں شیعہ شہداء کی لاشیں قانونی کاروائی کے لئے مقامی اسپتال منتقل کردی گئیں۔ جہاں سے ایک جلوس کی شکل میں انہیں قندھاری امام بارگاہ منتقل کیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق فائرنگ کی زد میں آکر دو سنی بھائی بھی شہید ہوگئے۔
سانحہ سرکی روڈ کے حوالے سے ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ حاجی نبی نماز پڑھ رہے تھے اور اُن کا بیٹا طارق وضو میں مصروف تھا۔ کہ اتنے میں کالعدم (مگر سرگرم) دہشت گرد ٹولوں کے درندوں نے اللہ اکبر کے نعرے لگاکر فائرنگ شروع کردی۔ [اللہ اکبر کے نعرے مسلمانوں کو قتل کرنے کے لئے فائدہ پہنچا تو اللہ اکبر کے دشمنوں کو]۔
دہشتگرد فائرنگ کرتے ہوئے مسلسل دھمکی دے رہے تھے کہ یہ ملک چھوڑ دو۔ البتہ کوئٹہ میں بسنے والے غیور شیعہ مؤمنین نے اس دھمکی کو مسترد کردیا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ ملک چھوڑنے کا کہنے والے دہشت گرد مملکت پاکستان کے باغی ہیں اور مختلف اشکال میں مملکت پاکستان کی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں اور اس کے مرکزی اداروں تک کو اپنی درندگی کا نشانہ بناتے ہیں]۔
واضع رہے کہ کوئٹہ میں ایک ظویل عرصے سے شیعہ مسلمانوں کی نسل کشی جاری ہے۔ چُن چُن کر شیعہ مسلمانوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
دریں اثناء گذشتہ 24 گھنٹوں میں کوئٹہ میں شہید ہونے والوں کی تعددا 6ہوگئی ہے۔
پاکستانی حکومت ان دہشتگردوں کے ہاتھوں یر غمال نظر آتی ہے اور ملک کے سکیورٹی ادارے بے بس تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔
پورے ملک میں شیعہ مسلمانوں کے اندر پائے جانے والی احساس محرومی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو کسی بڑے خطرے کی علامت بن سکتا ہے مگر حکومت اور سکیورٹی اداروں کو کوئی ہوش نہیں۔
یہ خبر بھی پڑھئے:
کوئٹہ: دہشتگردوں کی فائرنگ، محمد علی نامی شیعہ شہید


بشکریہ از شیعہ کلنگ
.......
/169۔ 110