29 مئی 2012 - 19:30

اسرائيل کے مظالم سے متعلق جاری ہونے والے مختلف اعداد و شمار سے فلسطینیوں خصوصا فلسطینی بچوں پر صہیونی ریاست کے بہیمانہ مظالم کا سلسلہ جاری رہنے کی نشاندہی ہوتی ہے ۔

ابنا: اس سلسلے میں نام نہاد خود مختار فلسطینی انتظامیہ کی وزارت اطلاعات نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ صہیونی فوجیوں نے سنہ دو ہزار سے اب تک ایک ہزار چار سو چھپن فلسطینی بچوں کو شہید اور پانچ ہزار سے زیادہ فلسطینی بچوں کو زخمی کردیا ہے۔

فلسطینی انتظامیہ کی وزارت اطلاعات نے یہ اعداد و شمار بچوں کے عالمی دن کی مناسبت سے جاری کۓ ہیں۔ صہیونی ریاست سنہ دو ہزار سے اب تک نو ہزار فلسطینی بچوں سمیت پچھتر ہزار فلسطینیوں کو قید کرچکی ہے۔

تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق اس وقت بھی تقریبا پانچ ہزار فلسطینی صہیونی ریاست کی جیلوں میں قید ہیں۔ جن میں سے دو سو پندرہ بچے ہیں۔ فلسطینی بچوں پر صہیونی ریاست کے مظالم سے اس حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ انسانیت کی دشمن یہ حکومت اپنے غیر انسانی اقدامات کے سلسلے میں کسی بھی حد کی قائل نہیں ہے۔

صہیونی ریاست ایسی حالت میں بچوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری رکھے ہوۓ ہے کہ جب عالمی برادری نے اس حکومت کے مظالم کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ اور وہ ان مظالم کی روک تھام کے لۓ کوئي اقدام انجام نہیں دے رہی ہے۔

دنیا کے مختلف علاقوں میں ہونے والی جنگوں اور تشدد آمیز واقعات میں یورپ اور صہیونی ریاست کے ہاتھ واضح طور پر دکھائي دیتے ہیں اور زیادہ تر بچے اور نوجوان ہی ان جنگوں اور تشدد کے واقعات کا شکار ہوتے ہیں۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں بچوں کی وسیع پیمانے پر ہونے والی ہلاکتوں اور صہیونی ریاست کے ہاتھوں فلسطینی بچوں کے قتل عام سے اسی حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔

صہیونی ریاست کے مظالم کے بارے میں بچوں کے عالمی دن کی مناسبت سے جو اعداد و شمار جاری کۓ گۓ ہیں ان کے پیش نظر عالمی برداری کی جانب سے صہیونی ریاست کی روک تھام کی ضرورت مزید بڑھ گئي ہے۔

دوسری جانب راۓ عامہ اس بات کی توقع کررہی ہے کہ نام نہاد خود مختار فلسطینی انتظامیہ صہیونی ریاست کے ساتھ سازباز پر مبنی پالیسی کو ترک کر دے کیونکہ اس طرح کے اقدامات فلسطینی عوام پر ظلم کرنے کے سلسلے میں صہیونی ریاست کے مزید جری ہونے کا سبب بنتے ہیں۔ فلسطین کی خود مختار انتظامیہ استقامت کی بنیاد پر قومی آشتی کے قیام کے ذریعے صہیونی ریاست کے مظالم کی روک تھام سے متعلق فلسطینیوں کی کوشش میں ان کا ساتھ دے سکتی ہے۔.......

/169