26 مئی 2012 - 19:30

کينڈا ميں پوليس ، مونٹريال ميں ہر قسم کے مظاہرے کو روکنے کے لئے الرٹ کردي گئ ہے جبکہ حاليہ مظاہروں ميں گرفتار ہونے والوں کي تعداد دو ہزار سے تجاوز کرگئي ہے-اس کے باوجود طلبا اور عوام کي بڑي تعداد نے ايک بار پھر حکومت کي پاليسيوں کے خلاف مظاہرہ کيا ہے -

ابنا: يہ مظاہرہ ، کينڈا ميں مظاہروں کے خلاف بنائے جانے والے نئے قانون کي مذمت ميں ہوا تھا - اسي طرح کينڈا کے کبک شہر ميں بھي ايک سو ساٹھ لوگوں کو حراست ميں ليا گيا اس طرح سے ، مظاہروں پر پابندي کے نئے قانون کے بعد کينڈا ميں اس قانون کے خلاف مظاہروں  کے دوران گرفتار ہونے والوں کي تعداد دو ہزار سے تجاوز کرگئ ہے -

    کينڈا کي حکومت کي کوشش ہے کہ عوامي مظاہروں کو طلبا کے احتجاج تک محدود رکھے اور يہ ظاہر کرے کہ بد امني صرف طلبا کي وجہ سے ہے اور وہي اس کے ذمہ دار ہيں  اورحالات کو مذاکرات سے قابو ميں کيا جا سکتا ہے -

   فروري کے مہينے ميں بھي تقريبا تيس لاکھ طلبا نے ، فيسوں ميں اضافے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کلاسوں کا بائيکاٹ کيا تھا - کينیڈا ميں  جاري مظاہروں کے پيش نظر ايسا لگتا ہے کہ طلبا کي تحريک ، فيسوں ميں اضافے کے مسئلے تک ہي محدود نہيں ہے  کيونکہ اس تحريک نے ، بجٹ ميں بد انتظامي ، حکومت ميں بدعنواني اور تعليمي نظام کے نقائص  جيسے کينڈا کے کئ مسائل کواٹھاياہے - کبک صوبے کے طلبا، سماجي تنظيموں ، يونينوں اور فنکاروں نے جمعے کے روز مظاہرہ کرکے ، صوبائي عدالت سے باضابطہ طور پر مطالبہ کيا ہے کہ وہ مظاہروں پر پابندي لگانے والے قانون کو کالعدم قرار دے -

   مظاہرين ، مظاہروں کو محدود کرنے کے نئے قانون کو ملک ميں انساني حقوق اور آزادي اظہار خيال کي خلاف ورزي قرار دے رہے ہيں - اس سلسلے ميں عالمگيريت کے تحقيقاتي ادارے کے تجزيہ نگار آندرو گيوين مارشل نے رشا ٹوڈے ٹي وي چينل سے ايک انٹرويو ميں کہا کہ کبک ميں حاليہ مظاہرے در اصل ايک سماجي تحريک ہے جسے مونٹريال اسپرنگ کا نام ديا جا سکتا ہے- انہوں نے کہا کہ ايک طرف کينڈا کي حکومت ہے جو مظاہروں کے خلاف نئے قانون بنا کر ماضي سے زيادہ آمرانہ حکومت ميں تبديل ہو گئ ہے  - انہوں نے کہا کہ اس حکومت نے گزشتہ ہفتے منظور ہونے والے قانون کے ذريعے ، کينڈا ميں مظاہروں اور مخالفين کے اجتماعات پر مختلف پابندياں عائد کر دي ہيں- اس طرح سے ہم کينڈا ميں آمرانہ انداز ميں مظاہروں کي سرکوبي کا مشاہدہ کر رہے ہيں -   کينڈا ميں اب يہ صاف محسوس ہو رہا ہے کہ عوام ميں حکومت کي کارکردگي پر ناراضگي ہے اسي لئے اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ موجودہ احتجاجي مظاہرے  آساني سے ختم ہو جائيں گے-  در ايں اثنا مظاہرين کي تشدد کے ساتھ سرکوبي قابل توجہ ہے - انساني حقوق کے تحفظ کا دعوي کرنے والي کينڈا کي حکومت ، حکومت کي جانب سے مدد کا مطالبہ کرنے والے طلبا کے مظاہروں کو تشدد سے روک رہي ہے جو ہر طرح سے مغربي اصولوں کے لحاظ سے بھي انساني حقوق کي واضح خلاف ورزي ہے –

.......

/169